• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی معیشت کے گیم چینجر SIFC کی اپیکس کمیٹی 16 ماہ سے خاموش

انصار عباسی

اسلام آباد :…کسی وقت میں پاکستان کی معیشت کیلئے گیم چینجر قرار دی جانے والی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا 2؍ جنوری 2025ء کے بعد سے ایک بھی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں ہوا، جس سے اس کے متحرک رہنے اور بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اور اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی موجودگی میں ایس آئی ایف سی کی 11ویں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا اور 2025ء کیلئے اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ اسکے بعد سے ایس آئی ایف سی کی اعلیٰ ترین فیصلہ کمیٹی نمایاں طور پر خاموش رہی ہے؛ حالانکہ اسے سول و عسکری ہم آہنگی کے ساتھ ’’ون ونڈو‘‘ فاسٹ ٹریک پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم، رابطہ کرنے پر ایس آئی ایف سی کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ 2؍ جنوری 2025ء کے بعد ایپکس کمیٹی کا ایک اجلاس خاموشی سے منعقد ہوا تھا۔ نچلی سطحیں فعال، مگر اعلیٰ سطحی پیش رفت کا فقدان۔ ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا آخری اجلاس بھی جون 2025ء میں یعنی تقریباً گیارہ ماہ قبل منعقد ہوا تھا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کا 14واں اجلاس 18؍ جون 2025ء کو منعقد ہوا تھا۔ اگرچہ ایس آئی ایف سی کی اعلیٰ سطحی کمیٹیاں طویل عرصے سے اجلاس منعقد نہیں کر رہیں، تاہم کونسل سیکریٹریٹ فعال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی امپلیمنٹیشن (عملدرآمد) کمیٹی باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتی ہے، لیکن اعلیٰ ترین (اپیکس) سطح کے نمایاں اجلاس اس انداز سے منعقد نہیں ہو رہے، جو 2023ء کے وسط میں ایس آئی ایف سی کے قیام اور 2024ء میں اس کے عروج کے دوران ہو رہے تھے۔ ایس آئی ایف سی کو بڑے اہداف کے ساتھ قائم کیا گیا تھا تاکہ دفاع، زراعت، معدنیات، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا کر خلیجی ممالک، چین اور یورپ سے اربوں ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ لائی جا سکے۔ ابتدائی نتائج میں بعض شعبوں میں محدود بہتری دیکھی گئی، تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ساختی رکاوٹیں، منصوبوں پر سست عملدرآمد اور حقیقی سرمایہ کاری کی کم سطح بدستور برقرار ہے۔ ایس آئی ایف سی کے نمائندے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ پلیٹ فارم عملی سطح پر فعال اور موثر ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ایپکس کمیٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر جہانزیب خان نے حال ہی میں بین الاقوامی کاروباری فورمز سے خطاب کرتے ہوئے 2026ء میں جاری اصلاحات اور مواقع کو اجاگر کیا تھا۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری توقعات سے کم رہی ہے، اور متعدد اعلیٰ سطحی مفاہمتی یادداشتیں اب تک عملی منصوبوں میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔ پاکستان میں سیاسی غیر یقینی، بیوروکریٹک رکاوٹیں، سکیورٹی خدشات اور پالیسی کے عدم تسلسل جیسے مسائل کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی کشش اس کی اعلیٰ سطحی سرپرستی اور تیز رفتاری میں تھی۔ ایپکس اور ایگزیکٹو کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے بغیر خدشہ ہے کہ ایس آئی ایف سی صرف ایک اور بیوروکریٹک ادارہ بن کر رہ جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید