اسلام آباد:د(انصار عباسی)…ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری جمیل احمد قریشی کا کہنا ہے کہ چائنیز اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے بارہا پاکستان پر زور دیا ہے کہ منظوریوں کے عمل کو تیز کیا جائے، پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جائے، بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے اور تنازعات کے حل کا موثر نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ایس آئی ایف سی ان سرمایہ کاروں کے خدشات کا براہِ راست جواب ہے کیونکہ یہ کونسل رابطہ اور سہولت کاری کے متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹرکچر میں تبدیلی کا مقصد سی پیک فیز ٹو اور وزیرِاعظم کے متوقع دورہ چین سے قبل ایس آئی ایف سی کو سرمایہ کاری کی منظوری، رابطہ کاری، سہولت کاری اور عملدرآمد کا مرکزی ادارہ بنانا ہے۔
دی نیوز نے یہ جاننے کیلئے ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری سے رابطہ کیا تھا کہ اب تک کونسل کتنی سرمایہ کاری حاصل کر چکی ہے۔
اگرچہ سیکریٹری نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا، اخباری مضامین اور دیگر ذرائع سے منظم میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ایس آئی ایف سی میں ضم کرنے کے وزیرِ اعظم کے فیصلے کو ایک ایسے موقع پر متنازع بنایا جا سکے جب پاکستان اپنی سرمایہ کاری کے ڈھانچے کو موثر بنانے اور مرکزی حیثیت دینے کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم میں تنقید کا بڑا حصہ ایس آئی ایف سی کی قلیل مدت میں حاصل کردہ نمایاں کارکردگی کو نظر انداز کرتا ہے، خصوصاً جب اس کا تقابل بورڈ آف انویسٹمنٹ کی طویل عرصے تک کمزور کارکردگی سے کیا جائے، جو سرمایہ کاروں کے مسائل، بیوروکریٹک تقسیم، بین الادارہ جاتی تاخیر اور پالیسی پر عملدرآمد کی رکاوٹوں کو موثر انداز میں حل کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف انوسٹمنٹ دہائیوں سے موجود ہے لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ ملک کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو پائیدار اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سست منظوریوں کا عمل، اوور لیپنگ اختیارات اور کمزور ہم آہنگی کے نظام تھے۔
اوپن سورس جائزوں میں بھی بارہا نشاندہی کی گئی کہ بورڈ کا نام نہاد ’’سنگل ونڈو‘‘ ماڈل عملی طور پر ناکام رہا، خصوصاً خصوصی اقتصادی زونز میں، جہاں سرمایہ کاروں کو متعدد اداروں، تاخیر سے یوٹیلٹی کنکشن، لائسنسنگ مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ایس آئی ایف سی میں ضم کرنے کا اقدام ایک بکھرے ہوئے بیوروکریٹک نظام سے نکل کر ایک مرکزی ’’سنگل ونڈو‘‘ سرمایہ کاری ڈھانچے کی جانب منتقلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سیکریٹری کے مطابق دہائیوں تک پاکستان میں سرمایہ کاروں کو مختلف وزارتوں، صوبائی محکموں، ریگولیٹرز اور منظوری کے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، جس سے تاخیر، غیر یقینی صورتحال اور بدعنوانی کے مواقع پیدا ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کا مرکزی ڈھانچہ اختیارات کی ڈُپلیکیشن کو کم کرتا ہے اور وفاقی اداروں، صوبوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرتا ہے۔ یہ اصلاحات عالمی سطح پر بارہا اٹھائے جانے والے خدشات سے ہم آہنگ ہیں، جن میں حکمرانی کی کمزوریاں، ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان اور بدعنوانی کے امکانات شامل ہیں، جو پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتے رہے ہیں۔
ایک مرکزی نظام کے ذریعے منظوریوں اور سہولت کاری کو یکجا کرنے سے پاکستان فائلوں کی صوابدیدی نقل و حرکت کو کم کر سکتا ہے، سرمایہ کاروں کیلئے پیش گوئی کی صلاحیت بہتر بنا سکتا ہے، منصوبوں کی تکمیل کی رفتار بڑھا سکتا ہے اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کا وقت بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان سی پیک فیز ٹوُ کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں صنعتی منتقلی، مینوفیکچرنگ، کاروبار سے کاروبار سرمایہ کاری، خصوصی اقتصادی زونز اور برآمدات پر مبنی ترقی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس ماڈل کو ڈیجیٹل ٹریکنگ، عوامی معلومات کی فراہمی، مقررہ مدت میں منظوریوں اور موثر نگرانی کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ حکمرانی کے اُن مسائل کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے جو ماضی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کرتے رہے ہیں۔
جمیل احمد قریشی نے زور دیا کہ اس اصلاح کی اصل اہمیت محض ایک انتظامی انضمام نہیں بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے سست اور طریقہ کار پر مبنی حکمرانی سے ہٹ کر عملدرآمد پر مبنی معاشی نظم و نسق کی طرف منتقلی کی کوشش ہے۔