راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹر سے) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی کے قتل میں مرکزی ملزم مقتولہ کے شوہر کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ سے سول مقدمہ قتل کئی برسوں کے بعد کسی ملزم کی سزائے موت کی توثیق ہوئی ہے۔ مقتولہ کا سسرجسے مقدمہ قتل میں سات سال سزا ہوئی تھی۔ سزا معطلی پر باہر تھا لیکن دل کے دورہ کے باعث 28 جنوری 2025 کو اس کی موت ہوچکی ہے۔کیس کی پیروی مقتولہ کے بیٹےعبداللہ مہدی کی طرف سے ایف بی آئی ایوارڈ یافتہ شبنم نواز اعوان ایڈووکیٹ نے کی۔سرکار کی طرف سے ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل ملک محمد لطیف پیش ہوئے۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے 12 نومبر 2022 کو وجیہہ سواتی قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر کوجرم ثابت ہونے پر3مختلف دفعات کے تحت سزائے موت، مجموعی طور پر17سال قید اور7لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے مقتولہ کے سسر حریت اللہ اور اس کے ڈرائیور سلطان احمد کو7،7سال قید اور 1لاکھ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے مقدمہ میں نامزد گھریلو ملازمین یوسف مسیح اسکی اہلیہ زاہدہ یوسف اور رشید احمد پر مشتمل 3دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا۔ وجیہہ سواتی گزشتہ سال 16اکتوبر کو پاکستان آنے کے بعد پراسرارطور پر لاپتہ ہو گئی تھیں۔