اسلام آباد (جنگ نیوز) آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کا اجلاس اسلام آباد اخبار مارکیٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی اور جوائنٹ سیکرٹری محسن بلال عباسی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر کے اخبار فروشوں کے مسائل کے حل کے لیے گفت و شنید ہوئی بالخصوص پٹرول کے موجودہ بحران کی وجہ سے پائی جانے والی بے چینی پر غور کیا گیا ۔ آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے عہدے داران مرکزی تاحیات سیکرٹری جنرل ٹکا خان ۔ صدر حاجی اقبال نون، آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری عاشق علی ،اخبار فروش یونین اسلام آباد کے صدر چوہدری محمد شریف، اخبار فروش یونین راولپنڈی کے صدر محمد شفیق ستی ،آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن صوبہ پنجاب کے صدر عقیل احمد عباسی، اخبار فروش یونین لاہور کے صدر چوہدری مشتاق علی، اخبار فروش یونین لاہور کے جنرل سیکرٹری رانا محمد یامین، اخبار فرو ش یونین لاہور کے سینئر نائب صدر ملک امتیاز ، اسلام آباد اخبار فروش یونین کے میزبان چوہدری اکبر اور چوھدری منیر نے شرکت کی آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل ٹکا خان نے اے پی این ایس کے صدر سے گزارش کی کہ اس مہنگائی کے طوفان میں اخبار فروشوں کے مسائل کے حل کے لیے اے پی این ایس کو سوچنا ہوگا، یہ فوج جو اخبار فروشوں کی صورت میں اخباری صنعت کو میسر ہے اگر کام چھوڑ کر چلی گئی تو صنعت کے لیے مسائل کھڑے ہوں گے اخبار فروشوں کی معاونت کے لیے حکومت سے سبسڈی لے کر دی جائے، اخبار فروشوں کے لیے الیکٹرک بائک ،حکومت کی طرف سے ہاؤسنگ سکیموں میں کوٹا مقرر کروایا جائے اور موجودہ بحران میں اخبار فروشوں کی مالی معاونت کی جائے تاکہ یہ مزدور اپنی گاڑی کا پہیہ چلا سکیں ،تمام عہدے داران نے یہ عہد کیا کہ ہم کسی نہ کسی صورت میں اخبار فروشوں کے لیے اس بحران میں کوئی بہترین پیکج لانے کی کوشش کریں گے تمام بڑے شہروں کے عہدے داران نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں اس مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے اخبار فروشی کرنا ناممکن ہو گیا ہے ان حالات میں کوئی بہتر پلاننگ نہ کی گئی تو اخباری صنعت سے وابستہ اخبار فروش شدید بحران کا شکار ہو جائے گا عہدے داران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اخبار فروشوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اے پی این ایس بھی اپنا کردار ادا کرے ۔ اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی نے چاروں صوبوں کے وزراءاعلی سے ملاقات کروانے کے لیے وعدہ کیا اور اس کی ساتھ ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات سے بھی ملاقات کروانے کی یقین دہانی کروائی۔