• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الٹرا پراسیسڈ خوراک و مشروبات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے

اسلام آباد (راحت منیر/ اپنے رپورٹرسے) ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی تنظیموں، صارفین کے حقوق کے علمبرداروں اور ماہرینِ تعلیم نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ الٹرا پراسیسڈفوڈزغیر متعددی امراض میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔بیماریوں کی بڑی وجہ الٹرا پراسیسڈ فوڈز میں نمک، چینی، ٹرانس فیٹس، سیچوریٹڈ فیٹس اور نان شوگر سویٹنرز کا زیادہ استعمال شامل بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ایسی غذائی مصنوعات جو عالمی ادارہ صحت کےمقررہ معیار سے زیادہ چینی ، ٹرانس فیٹس، اور نمک پر مشتمل ہوں یا جن میں نان شوگر سویٹنرز شامل ہوں، ان پر اردو زبان میں انتباہی لیبل لازمی قرار دیا جائے۔ الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) کے نفاذ کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ ان مصنوعات کے استعمال میں کمی لائی جا سکے، صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ثنا ء اللہ گھمن کی سربراہی میں ماہرینِ صحت، سول سوسائٹی تنظیموں، صارفین کے حقوق کے علمبرداروں اور ماہرینِ تعلیم نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور پی ایس کیو سی اے سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ نیوٹرینٹ پروفائل ماڈلز کی بنیاد پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ پالیسی سازی کا عمل آزاد سائنسی شواہد اور عوامی صحت کی ترجیحات کے مطابق ہو نا چاہیے جو تجارتی مفادات کے غیر ضروری اثر و رسوخ سے محفوظ ہو۔ بچوں اور صارفین کو گمراہ کن تشہیری حربوں اور غیر صحت مند غذائی ماحول سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی احتیاطی صحت عامہ پالیسیوں کو ترجیح دی جائے۔
اسلام آباد سے مزید