سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہرے قتل کے مجرم عبدالشکور کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کا 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ مجرم نے معمولی تلخ کلامی پر اپنی بھابھی کے والد کو قتل کیا۔
فیصلے کے مطابق مقتول کو قتل کرنے کے بعد مجرم نے بھابھی کی والدہ کو بھی گولی مار کر قتل کر دیا، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں بھابھی کے 2 بھائی رحمت اللّٰہ اور احمد شاہ زخمی ہوئے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقتولین دراصل مجرم کے بھائی نعمت اللّٰہ کے ساس اور سسر تھے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی کے گھر میں گھس کر قتلِ عام کرنا انسانیت سوز فعل ہے اور مجرم نے گھر کے تقدس اور تحفظ کو پامال کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قتل و غارت کے بعد مجرم نے اپنی بھابھی کو بھی اغواء کیا، عدالت نے چشم دید گواہوں اور طبی شواہد کو ناقابلِ تردید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین جرم میں کسی رعایت کی گنجائش نہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ریمارکس دیے کہ والدین جیسے مقدس رشتے کے قاتل کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے مقتولین کے داماد نعمت اللّٰہ کو بری کر دیا تھا، اگرچہ واقعے کے وقت وہ جائے وقوع پر موجود تھا۔