تہران، واشنگٹن (نیوز ڈیسک، اے ایف پی) یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت رواں بنانے کیلئے ایران سے مذاکرات شروع کر دیئے، ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو منظم کرنے کیلئے نیا میکینزم تیار کرلیا ہے جسےجلد پیش کیا جائیگا، ایرانی پارلیمنٹ کے نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نےکہا کہ اس میکینزم سے ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز مستفید ہونگے، میکانزم کے تحت خصوصی خدمات کی فیس لی جائیگی اور یہ راستہ نام نہاد ʼفریڈم پروجیکٹ ʼ آپریٹرز کیلئے بند رہے گا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو اصل تکلیف اس وقت شروع ہوگی، جب امریکا کے قرض میں اضافہ ہوگا اور مارگیج کی شرح بڑھے گی، متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ تمام اقدامات اپنے دفاع میں کیے، کسی بھی دھمکی قبول نہیں، ایران کی جانب سے کسی بھی خطرے کا جواب دینےکا حق محفوظ رکھتے ہیں، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بعض بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا، ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ حملہ ہوا تو نئی جنگ خارج از امکان نہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ (ٹرانزٹ) کے حوالے سے تہران کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مشرقی ایشیائی ممالک بالخصوص چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کو اجازت ملنے کے بعد اب یورپی ممالک نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہاں سے گزرنے کا اذن حاصل کیا جا سکے۔ تاہم رپورٹ میں مذاکرات کرنے والے یورپی ممالک کے نام واضح نہیں کیے گئے۔ایرانی فوج کے نظریاتی بازو ʼپاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے نئے ایرانی پروٹوکولز کی منظوری کے بعد چین سمیت درجنوں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جنگ کے بعد اب اس راستے کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی اور گزشتہ ماہ ایران نے اس گزرگاہ پر عائد کیے گئے نئے ٹیکسوں سے پہلی آمدنی بھی وصول کر لی ہے۔علاو ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بتایا کہ ٹریفک کنٹرول کرنے کا نیا پیشہ ورانہ طریقہ کار جلد متعارف کرایا جا رہا ہے جس سے صرف ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تجارتی جہاز ہی فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ امریکی فوجی مشن ʼفریڈم پروجیکٹ کے تحت آنے والے جہازوں کیلئے یہ راستہ مکمل بند رہے گا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے برکس اجلاس میں ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملوں کو جائز قرار دینے سے متعلق بیانات کو مسترد کردیا۔ امارات کے وزیر مملکت نے حملوں کو اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےکہا کہ وہ کسی بھی دھمکی کو قبول نہیں کرتے اور ایران کی جانب سے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور ملک کی خود مختاری کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرتوانائی سہیل المزروعی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا یو اے ای کا فیصلہ ایک خود مختار اور اسٹریٹجک انتخاب تھا، جو ملک کی پیداواری حکمت عملی اور مستقبل کی صلاحیتوں کے جامع جائزے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ المزروعی نے مزید واضح کیا کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی سیاسی محرکات نہیں تھے اور نہ ہی یہ شراکت داروں کے ساتھ کسی قسم کے اختلافات یا تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔