اسلام آباد (رانا غلام قادر ) 212 ارب روپے مالیت کا جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر (JMC) اسلام آ بادپراجیکٹ بیورو کریسی کےروا یتی سرخ فیتے کی نذر ہوگیا، فیز ون میں 1400بیڈ کے ہسپتال کی تعمیر کیلئے فر موں کی پری کوالی فیکیشن کا پراسیس منسوخ کیا گیا ،جناح میڈیکل کنسٹرکشن کمپنی نے 18جون تک ٹینڈرز طلب کرلئے،وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کا نوٹس لیں ۔۔ پہلے سی ڈی اے نے سیکٹر ایچ سولہ میں75ایکٹر اراضی الاٹ کرکے بعد میں زمین کی کلیر نس نہ ہونے کا جواز بنا کر لوکیشن تبدیل کردی اور سیکٹر ایچ الیون ٹو میں نئی سائٹ الاٹ کی اب پراجیکٹ کیلئے تعمیراتی فرموں کی پری کوالی فیکیشن کا مکمل کیا گیا پراسیس بغیر کسی وجہ کے منسوخ کرکے نئے سرے سے ٹینڈرز طلب کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ فلیگ شپ پراجیکٹ تاخیر اور تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ بغیر کسی واضح جواز کے سابقہ پری کوالیفکیشن کی اچانک منسوخی اور نیا ٹینڈر جاری کیے جانے پر پروکیورمنٹ کے عمل کی شفا فیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کا نوٹس لیں کہ وزیراعظم کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے آگے بڑھنے والے منصوبہ میں کیوں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطا بق وزیر اعظم شہباز شریف نے سیکٹر ایچ سولہ میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سنٹر کی تعمیر کی منظوری دی ۔ اس پراجیکٹ کا ٹاسک سی ڈی اے کو دیاگیا۔ قاضی عمر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ فیز ون میں ہسپتال تعمیر ہونا ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے فیز میں میڈیکل یو نیو رسٹی ۔ ہاسٹل ۔ ریسرچ سنٹر اور نرسنگ یو نیورسٹی تعمیر کی جا ئے گی ۔سی ڈی اے نے فیز ون میں 1400بیڈ کےہسپتال کی تعمیر کے 70ارب روپے کے تعمیراتی کام کیلئے تعمیراتی فر موں سے پری کو الی فیکیشن کیلئے درخواستیں طلب کیں۔نو فرموں نے اپلائی کیا جس میں سے چار فر موں کو پری کوالی فائی کیا گیا۔