کراچی (مطلوب حسین/اسٹاف رپورٹر) مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو، پنکی ۔ پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے، اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں بیان ۔ پنکی شاطر منشیات فروش ہے، مخصوص جماعت کا نام لے کر تفتیش کا رخ موڑنا چاہتی ہے، پولیس افسر۔ تفصیلات کے مطابق اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے اسکا ،نظر ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں ۔ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ میرے خلاف بیس سے پچیس پرچے ڈالے جارہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپکی فیملی کو اٹھا کر لیجائیں گے ،بنی گالہ کے ایک بندے کا نام لیا جارہا ہے، کہا جارہا ہے اسکا نام لو ،پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے انہوں نے کہا تھا ایسے آپ نے چلنا ہے ،جس گھر میں میری گرفتاری ڈالی گئی وہ میرا نہیں ہے۔ علاوہ ازیں انمول پنکی کا عدالت میں بنی گالہ کے ایک آدمی کے حوالے سے دیا گیا بیان مبینہ طور تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے،انمول پنکی کیس کی تفتیش میں شامل ایک آفیسر نے بتایا ہے کہ انمول پنکی ایک شاطر منشیات فروش ہیں جو تفتیش اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کے لئے بنی گالہ کے آدمی کے حوالے سے پولیس پر الزامات لگارہی ہے،انمول پنکی کا عدالت میں دیا گیا بیان ایک خطر ناک اسٹنٹ ہے جس میں وہ ایک مخصوص جماعت کو پولیس کے خلاف استعمال کرکے تفتیش کا رخ موڑ نا چاہتی ہیں اس سے قبل وہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت پر بھی جھوٹا الزام لگا چکی ہے تاہم ،ملزمہ کے خلاف اتنے مضبوط شواہد ہیں کہ وہ کسی صورت بچ نہیں سکتی۔ضلع جنوبی کی عدالت سے سماعت کے بعد واپسی پر ملزمہ کو لیجاتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگ گئے۔ سماعت میں موجود کچھ افراد مشتعل ہوگئے۔ کمرہ عدالت کے باہر مارو مارو کے نعرے، پولیس بڑی مشکل سے حصار میں لیکر گئی۔