کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے صدر کے صرافہ بازار میں العمران جیولرز پر جمعرات کو چھاپہ مارنے والی ٹیم کا سربراہ ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد اقبال نے بلا جواز دکان کے مالک اور بیٹوں پر ایک دوسرے کے سامنے تشدد کیا تشدد اور وردی کے زعم میں ایف آئی اے چھاپہ متنازع، ڈائریکٹر کراچی زون منتظر مہدی نے ٹیم سب انسپکٹر محمد اقبال جس نے انسپکٹر کی وردی پہنی ہوئی تھی اس کو معطل کر دیا۔ واضع ہو کہ سب انسپکٹر محمد اقبال اپنی ’’بہترین کارکردگی اور کارناموں‘‘ پر پہلے وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھا مگر اس کو قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد تنزل ہو کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہو گیا پھر اس کے بعد مزید تنزلی ہوئی اور انسپکٹر ہو گیا اور آخر میں سب انسپکٹر بنا دیا گیا - وردی کے حوالے سے استفسار پر سرکل سربراہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی مردان جن کے پاس کافی ماہ سے قائم مقام چارج ہے سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے عجیب جواب دیا کہ ’’اس کی تنزلیوں کی اپیل کی سماعت جاری ہے‘‘ مگر جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب تک سماعت کا فیصلہ نہیں ہوتا وہ سب انسپکٹر ہی رہے گا تو ان کا جواب تھا کہ ’’میں اس سے پوچھ کر بتاتا ہوں‘‘۔ مذکورہ چھاپے میں قواعد کی ایک اور سخت خلاف ورزی ہوئی وہ یہ کہ اسٹینڈنگ آرڈر ہے کہ کہیں بھی چھاپے کے وقت پورا عملہ وردی زیب تن کرے گا مگر اس میں سوائے دو افسران سب انسپکٹرز محمد اقبال اور عدنان دلاور کے علاوہ خاتون افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر رباب قاضی سمیت کوئی بھی دوسرا عملہ وردی زیب تن نہیں کیے ہوئے تھے۔ محمد اقبال کا معطلی لیٹر جو ڈائریکٹر کراچی نے جاری کیا ہے اس میں اس کا عہدہ سب انسپکٹر ہی تحریر کیا گیا ہے اور اس کو کلوز ٹو زونل آفس کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی معطل کیا گیا ہے۔