• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں سالانہ 4 لاکھ افراد بلڈ پریشر سے مرتے ہیں، پروفیسر جہاں آرا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب 40 کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں، ہر سال دنیا بھر میں 10 ملین لوگ بلند فشار خون کے باعث انتقال کر جاتے ہیں پاکستان میں یہ تعداد 4 لاکھ ہے، بلند فشار خون بہت سی پیچیدہ بیماریوں کا سبب بنتا ہے جن میں فالج عارضہ قلب گردوں کی بیماری اور بینائی کی ابتری شامل ہیں ، ڈاؤ یونیورسٹی نے کراچی میں اپنے تمام سو سے زائد لیب کلیکشن یونٹس کو بنیادی صحت کی فراہمی کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جہاں بلند فشار خون کی مانیٹرنگ اورعلاج کی سہولت بھی موجود ہوگی وہ ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیا لوجی کے زیراہتمام عالمی یوم فشار خون کے موقع پر منعقدہ آگہی سیمیناراور پینل ڈسکشن سے بہ طور مہمان خصوصی خطاب کررہی تھیں۔ سیمینار سے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق فرمان ،ڈاکٹر تصدق خان، ڈاکٹر نعمان کا کی پوٹو ،پروفیسر حسین ہارون نے بھی خطاب کیا جبکہ پینل ڈسکشن میں جنرل سیکریٹری پاکستان کارڈیک سوسائٹی ڈاکٹر فواد فاروق،ڈاکٹر رخشندہ جبیں،ڈاکٹر نثار سیال،ڈاکٹر جواد السلام، مس ریحانہ جبیں نے بھی شرکت کی۔ مقررین کا کہناتھا کہ پاکستان میں 33 ملین افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں جس میں صرف 12 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول ہے جبکہ ان میں سے 50فیصد افراد اپنے ہائی بلڈ پریشر سے لا علم ہیں، ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہارٹ اٹیک اور فالج کے مرض میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
ملک بھر سے سے مزید