تہران/واشنگٹن(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکی اسلحے سے لدے درجنوں جہاز پیرکو اسرائیل پہنچ گئے ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہاہے کہ تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں ‘خلیجی ممالک کو یقین ہے کہ معاہدہ طے پا جائے گا‘امیرقطر شیخ تمیم بن حمد الثانی ‘سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زایدالنہیان کی درخواست پر منگل کو (آج) ایران پر کیا جانے والا مجوزہ حملہ روک دیا گیا ہے تاہم کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکی فوج کو کسی بھی لمحے بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے ۔ دوسری جانب ایرانی صدرمسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ‘ ایران کسی صورت اپنے عوام اور ملک کے جائز حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘اپنی پوری طاقت کے ساتھ آخری دم تک ایران کے مفادات اور وقار کا تحفظ کریں گے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی ایک نئی تجویز کا جواب دیدیاہے‘ ہمارے تحفظات سے واشنگٹن کو آگاہ کردیاگیاہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے ہمارا مؤقف امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے‘ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ‘تہران کسی بھی قسم کی صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہے‘ پاسداران انقلاب نے کہاہے کہ جنگ میں ہونے والی ذلت کا ازالہ کرنے کے لیے کسی بھی احمقانہ اقدام کو دہرانے کا نتیجہ مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا‘ پاسداران نےآبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ فائبر کیبلز پربھی پرمٹ (اجازت نامے ) نافذ کرنے کی دھمکی دیدی جبکہ تہران نے آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے باضابطہ طور پر نئی اتھارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا پورا حق حاصل ہے‘ایک پاکستانی ذریعے نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ پاکستان نےایران کی جانب سے ایک نظرثانی شدہ تجویز امریکا کے ساتھ شیئر کی ہے‘ سینئرایرانی اہلکار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے مؤقف میں نرمی آئی ہے ‘امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیوکا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا۔ صدر ٹرمپ کی ترجیح اب بھی سفارتی حل ہی ہے۔ ترکیہ کے وزیرخارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ قطر‘ سعودی عرب اور مصر بھی جنگ ختم کرانے کے لیے کوشاں ہیں‘ ترکیہ تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے‘ایسی کوئی وجہ نہیں کہ امریکا اور ایران مذاکرات کے ذریعے کسی مشترکہ حل پر نہ پہنچ سکیں‘ انقرہ کی ترجیح پاکستان کی ثالثی کوششوں میں تعاون کرنا اور جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔تفصیلات کےمطابق امریکی صدر نے پیرکی شب سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ انہیں امیر قطر ‘سعودی ولی عہد اوراماراتی صدر کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ہم ایران پر اپنے طے شدہ فوجی حملے کو روک دیں جوآج شیڈول تھا کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ان کی رائے میںایک ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو امریکا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک اور اس سے باہر کے لیے بھی انتہائی قابل قبول ہوگا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں یہ شرط شامل ہوگی کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے! ۔خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر میں نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہم آج ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، لیکن میں نے انہیں مزید یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ کسی قابلِ قبول معاہدے پر نہ پہنچنے کی صورت میں ایک لمحے کے نوٹس پر ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔