• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھگھر سے گھارو تک کراچی واٹر بورڈ کی اربوں روپے کی اراضی پر قبضہ مافیا کا راج

گھارو (نامہ نگار) گھگھر سے لیکر گھارو تک کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی اربوں روپے کی اراضی پر قبضے، دھابیجی پمپنگ اسٹیشن ،گھارو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ کی اسٹاف کالونیوں کے کوارٹرز اور بنگلوں پر بھی غیر متعلقہ قابض لوگواٹر بورڈ کی مفت بجلی اور پانی استعمال کرنے لگے۔ واٹر بورڈ انتظامیہ کی گرفت کمزور ہونے سے ادارے کو ماہانہ بجلی کی مد میں لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ مذکورہ کالونیوں میں اکثریت غیر متعلقہ افراد کی رہائش پذیر ہے اس سے قبل 1990کی دہائی میں یہ علاقے ممنوع کہلاتے تھے اور گھارو فلٹر پلانٹ اور دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر علاقہ ممنوع کے بورڈ آویزاں تھے مگر آج یوں لگتا ہے کہ مذکورہ علاقے واٹر بورڈ کے لیے ممنوع علاقے بن چکے ہیں پھر یہی نہیں واٹر بورڈ کو ملنے والی بجلی کی چوری بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے قریبی گوٹھ کالونیوں میں واٹر بورڈ کی بجلی چوری کر کے استعمال کی جا رہی ہے اسی طرح واٹر بورڈ کی اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں کا سلسلہ جاری ہے بہت سی رہائشی اسکیمیں بنا کر لینڈ مافیا کے افراد اسے فروخت کر چکے ہیں دھابیجی اور گھارو میں واٹر بورڈ کی اراضی پر لینڈ مافیا کی خصوصی نظر ہے اس مد میں واٹر بورڈ کے حکام اپنے افسران سے رپورٹس لینے کے بعد بھی اس پر کاروائی کرنے سے قاصر ہیں اس کی ایک بڑی وجہ واٹر بورڈ انتظامیہ میں لینڈ مافیا کے منظور نظر افراد موجود ہیں جو کسی بھی کاروائی میں بڑی رکاوٹ ہیں حالیہ میرپور ساکرو گولائی پر واٹر بورڈ کی اراضی پر قابض افراد جو طویل عرصے سے اس لینڈ پر اپنا کاروبار کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ پابند ہیں جب بھی واٹر بورڈ کو ضرورت پڑے گی وہ اراضی خالی کر دیں گے مگر بااثر شخصیات لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر ان سے یہ اراضی خالی کروا کر باقاعدہ بڑے شاپنگ سینٹر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید