کراچی (رفیق مانگٹ) سابق یونانی وزیر خزانہ یانس واروفاکس نے کہا ہے ایران کیخلاف اسرائیل امریکا جنگ غیر قانونی و مجرمانہ ہے۔ جوہری ہتھیاروں پر مغرب کی دوغلی پالیسی، اسرائیل کی ایٹمی صلاحیتوں پر عالمی خاموشی جبکہ ایران پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ایران جنگ کے پیچھے نہ کوئی پلان بی تھا نہ ہی پلان اے، ایران نے پڑوسیوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ خود جنگوں کا نشانہ بنا۔ ایران کا ردعمل خصوصاً ہرمز بندش مکمل قابلِ پیشگوئی تھا، غزہ اوپن ایئر جیل، وہاں کے حالات انسانی وقار کے خلاف ہیں۔ انہوں نے ایران تنازع کو ایسی جنگ قرار دیا جس کے پیچھے نہ کوئی واضح حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی کوئی متبادل منصوبہ، جبکہ انہوں نے مغربی دنیا پر جوہری پالیسی میں کھلے دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے معاملے پر خاموشی اور ایران پر دباؤ صریح منافقت ہے. ان کے مطابق اوباما کے دور میں 2015 کا جوہری معاہدہ ایک مؤثر ٹرسٹ اینڈ ویریفائی نظام تھا جسے بعد ازاں ٹرمپ نے بغیر واضح حکمتِ عملی کے ختم کر کے ایک بڑے تنازع کی بنیاد رکھ دی، اور ایران کا ردعمل خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش مکمل طور پر قابلِ پیشگوئی تھا انہوں نے غزہ کو اوپن ایئر جیل قرار دیتے ہوئے انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، 7 اکتوبر کے واقعات کو سنگین جنگی جرائم کہا مگر دہشت گردی کی اصطلاح پر سوال اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی باریک تفریق پر زور دیا، یہ واضح کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے، اور بارہا اس بات پر اصرار کیا کہ موجودہ جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جو بالآخر تیل، گیس اور سپلائی چین پر اثرات کے باعث عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔