• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

درآمدی پالیسی میں عدالتی مداخلت نہیں ہوسکتی، ہائیکورٹس کو سوموٹو اختیار حاصل نہیں، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ درآمدی پالیسی، تجارتی پابندیوں، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی جیسے معاملات وفاقی حکومت کے خصوصی اختیارات میں شامل ہیں جن میں ہائیکورٹس مداخلت نہیں کرسکتیں جبکہ ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے 26 جنوری 2024 کے فیصلے کے پیراگراف (سی) تا (ای) کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی اور اسرائیلی اشیا پر درآمدی پابندیوں کی آئینی حیثیت برقرار رکھی۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بنچ جس میں علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے، نے سی پی ایل اے نمبر 1505 اور 1506 آف 2024 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔مقدمہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 927(I)/2019 سے متعلق تھا، جسکے ذریعے بھارت اور اسرائیل سے درآمد ہونے والی اشیا کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ پابندیاں امپورٹ پالیسی آرڈر 2020 کا حصہ بھی بنائی گئیں۔لاہور ہائیکورٹ نے اگرچہ وفاقی حکومت کی درآمدی پالیسی کو آئینی قرار دیا تھا تاہم اس کے ساتھ وزارت تجارت کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ درخواست گزاروں کی شکایات سننے کے لئے ایک افسر مقرر کیا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں ان اضافی ہدایات کو آئینی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا۔
اہم خبریں سے مزید