کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ/ جوڈیشل کمپلیکس جنوبی کی عدالت نے کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔عدالت نے ملزمہ کو 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ،سماعت کے آغاز پر سادہ لباس اہلکاروں اور صحافیوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، دھکم پیل اور شور شرابے کی صورتحال پیدا ہوگئی،صحافیوں کو دھکے بھی دیئے گئے، کوریج سے روکا گیا، ملزمہ نے پیشی کے دوران مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ایک نہیں بلکہ کئی تفتیشی افسران نے تشدد کیا ہے،دوسری جانب سیشن عدالت نے پولیس کی جانب سے پنکی کیخلاف منشیات کے پانچ کیسز میں عدالتی ریمانڈ پر نظر ثانی کی دائر درخواست رد کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سائوتھ کی عدالت میں پولیس نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمہ میں پیش کیا، ملزمہ انمول نے مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایت کی۔وکلا صفائی نے موقف اختیار کیا کہ دیگر مقدمات میں ملزمہ کو جوڈیشل کسٹڈی کیا جاچکا ہے، ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دیا تو اسے مزید جھوٹے مقدمات میں شامل کرلیا جائے گا، مدعی مقدمہ کا بھی مرنے والے شخص سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے، ملزمہ پر سیاسی شخصیات، اداکاروں اور بااثر شخصیات کا اپنے بیان میں نام لینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے، ملزمہ کا طبی معائنہ کرایا جائے اور جیل بھیجا جائے ۔سیشن عدالت نے پولیس کی جانب سے پنکی کیخلاف منشیات کے پانچ کیسز میں عدالتی ریمانڈ پر نظر ثانی کی دائر درخواست رد کردی،عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اگرتفتیش کی ضرورت ہےتومتعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیاجائے۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ درخشاں تھانے میں انمول عرف پنکی کےخلاف منشیات کے پانچ مقدمات درج ہیں،جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے ملزمہ کوپانچوں مقدمات میں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاآرڈردیاتھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمہ شاطر اور سنگین مقدمات میں مطلوب ہے، ملزمہ سے تفتیش کےلئے ریمانڈ ضروری ہے، فاضل مجسٹریٹ کے فیصلے میں سقم پایا تھا، استدعا ہے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سرکاری وکیل شکیل عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ مقدمہ میں نامزد ہے اور ایف آئی آر کے متن میں بھی ذکر ہے،مقتول سے برآمد منشیات کو کیمیکل ایگزامن کے لئے بھیج دیا ہے، مقتول کے موبائل کو بھی فارنزک کے لئے بھیج دیا ہے، ملزمہ کا موبائل نمبر بھی موبائل میں موجود ہے، مدعی مقدمہ سوشل ورکر ہے اور اس کا زیر دفعہ 164 کے تحت بیان بھی ریکارڈ کرانا ہے، ملزمہ منشیات بیچنے اور سپلائی کا کاروبار کرتی ہے، منشیات رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھی ، استدعا ہے کہ ملزمہ کا 9 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ایس آئی یو کے مقدمہ میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر ہے، ملزمہ سنگین جرائم میں ملوث ہے جبکہ مزید تفتیش درکار ہے۔حکمنامے کے مطابق ریکارڈ کا جائزہ لینے پر سامنے آیا کہ ملزمہ مقدمہ کے متن میں نامزد ہے،ملزمہ کو مزید 4 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جاتا ہے، تفتیشی افسر ملزمہ کو 22 مئی کو عدالت میں پیش کرے ، تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائے، تفتیشی افسر کو سختی سے ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ملزمہ سے تفتیش لیڈی پولیس افسر کی موجودگی میں کرے۔