• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکسٹائل صنعت کے پورٹ حکام اور شپنگ کمپنیوں کیخلاف کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر تحفظات

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے پورٹ حکام اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے کسٹمز قوانین کی مبینہ مسلسل خلاف ورزی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور انتباہ کیا ہے کہ یہ مسئلہ کاروباری اداروں اور ملکی معیشت دونوں کو یکساں طور پر بھاری مالی نقصان پہنچا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے نام ایک سخت الفاظ پر مشتمل خط میں، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ’’ڈیلے اینڈ ڈیٹینشن ریلیف‘‘ (تاخیر اور روک تھام کے معاوضے/رعایت) سے متعلق قانونی دفعات پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 14(A)(2) کے تحت واضح تحفظات (رعایت) دستیاب ہونے کے باوجود، تاجروں کو اب بھی بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کا سامنا ہے۔ یہ چارجز ان تاخیرات پر عائد کیے جا رہے ہیں جو کاروباری اداروں کی وجہ سے نہیں، بلکہ حکومتی طریقہ کار، ریگولیٹری کارروائیوں اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید