راولپنڈی (خبر نگار خصوصی) میٹرو بس سروس کے 200 ملازمین کی بیک جنبشِ قلم برطرفیوں اور گزشتہ 2 ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر میٹرو بس سروس ملازمین گزشتہ روز سراپا احتجاج بن کر میٹرو ٹریک پر نکل آئے۔ ملازمین نے احتجاجاً ٹریک بلاک کر دیا جس سے جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس مکمل طور جام ہوگئی جسکے باعث دفتری اوقات میں اور ملازمت پیشہ مرد وخواتین جبکہ طلبہ و طالبات کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس مقصد کے لئے میٹرو بس سروس کے تمام برطرف مرد وخواتین ملازمین گزشتہ صبح پوٹھوہار میٹرو بس سٹیشن پر جمع ہوگئے اور میٹرو انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ متاثرہ ملازمین کا موقف تھا کہ میٹرو بس انتظامیہ نے 200 سے زائد ملازمین کو بغیر نوٹس کے نوکریوں سے برطرف کیا، ان ملازمین کی برطرفی یکم مئی سے شروع کی گئی جو تاحال جاری ہے جبکہ برطرف ملازمین کو (مارچ اور اپریل) کے 2 ماہ کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں۔ مظاہرین نے بتایا کہ میٹرو بس سروس کا ٹھیکہ نئی کمپنی کو دیا گیا ہے ۔ ملازمین کے کنٹریکٹ کی معیاد 2027 تک ہے اس برطرف ملازمین کو مختلف حیلے بہانے کرکے نوکریوں سے نکالا گیا ہے جس کے لئے کمپنی کا جواز ہے کہ ہمارے پاس ملازمین کی عمر کی حد 25 سے 40 سال تک ہے اگر ہم کسی ملازم کو رکھ بھی لیں تو ہمارے تنخواہوں کے خودکار ڈیجیٹل سسٹم کی وجہ سے زائد عمر کے ملازمین تنخواہیں وصول نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے نوٹس لینےکا مطا لبہ کیا ہے۔