• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینٹ داخلہ کمیٹی، سینیٹر سرمد علی کا میٹروبس اتھارٹی بل متفقہ منظور

اسلام آباد (طاہر خلیل) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی نے سینیٹر سرمد علی کے پیش کردہ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 پر بحث کی۔ سینیٹر سرمد علی نے کمیٹی کو بتایا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تحت ماس ​​ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز پر پہلے بھی غور کیا جا چکا ، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کمیٹی کی سابقہ ​​ہدایات کے باوجود سی ڈی اے اور وزارت قانون نے مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے ان کے ساتھ بامعنی رابطہ نہیں کیا۔سی ڈی اے کے حکام نے کہا کہ سی ڈی اے خود پہلے سے ہی ایک اتھارٹی ہے اور اس کے موجودہ ڈھانچے میں کسی اور اتھارٹی کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ سینیٹر سرمد علی نے جواب دیا کہ اس بل کا مقصد عام لوگوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، خاص طور پر 12 سال سے کم عمر بچوں اور بزرگ شہریوں کے لیے کرایوں میں چھوٹ فراہم کرنا۔ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سی ڈی اے کے چیئرمین اور بورڈ ممبران کو حال ہی میں تبدیل کیا گیا اور بل میں مجوزہ ترامیم کو سراہتے ہوئے مشاورت کے لیے اضافی وقت کی درخواست کی ہے۔کمیٹی نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی کئی اجلاسوں میں بحث ہو چکی ،کمیٹی نے ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ اس بل کو، جس کی حکومتی بنچوں، وزارت داخلہ اور قانون ڈویژن نے حمایت کی، کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔فوجداری قوانین (غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام) بل پر بحث کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس بات پر زور دیا کہ جرگہ کے نظام میں شامل افراد بشمول غیرت کے نام پر بے گناہ افراد کو سزا دینے کی سفارش کرنے والوں کا بھی قانون کے تحت جوابدہ ہونا چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید