کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ 28 ویں مجوزہ ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال شیئر نہیں کیا گیا، یہ مسودہ اگر سامنے آئے تو پارٹی اپنا مؤقف نظریاتی بنیادوں پر طے کرے گی، وفاق نے بھی آٹزم سینٹر کے قیام کے لئے سندھ حکومت سے معاونت طلب کی ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی مؤثر پالیسیوں کے باعث اس سال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے، سندھ حکومت کے پاس گندم کا وافر اسٹاک موجود ہے اور پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں گندم کی قیمت سب سے کم ہے۔حکومتِ سندھ کی جانب سے آٹزم کے شکار بچوں کے لئے اب تک 10 سینٹرز قائم کئے جا چکے ہیں، وفاقی حکومت نے بھی آٹزم سینٹر کے قیام کے لئے سندھ حکومت سے معاونت طلب کی ہے اور اسلام آباد میں ایک آٹزم سینٹر قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ کے درمیان اس حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں۔ حکومت نے بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کی بھرپور معاونت کی ہے۔سندھ کابینہ نے گندم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔