• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کپاس بحالی کا روڈ میپ کمیٹی سے منظوری کے باوجود تعطل کا شکار ہے، اپٹما

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان میں کپاس کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر مشتہر کیا جانے والا منصوبہ، جسے محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے منظور کیا تھا، سرکاری دفتری رکاوٹوں اور بیوروکریسی کی سست روی کے باعث تقریباً تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ ٹیکسٹائل صنعت نے اس صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حکومتی بے عملی کے باعث کپاس کا ایک اور سیزن ضائع ہو چکا ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے 20 مئی 2026 کو لکھے گئے ایک سخت لہجے کے خط میں محمد اسحاق ڈار کو آگاہ کیا کہ 22 اکتوبر 2025 کو ان کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے ضروری و نقد آور فصلوں کے چھٹے اجلاس میں منظور کیے گئے واضح فیصلوں کے باوجود “اب تک کسی بھی شعبے میں کوئی عملی اقدام شروع نہیں کیا گیا”، حالانکہ حکومت کو بارہا یاد دہانی بھی کرائی جا چکی ہے۔اپٹما کے مطابق کپاس بحالی روڈ میپ پر عملدرآمد میں مسلسل تاخیر کے باعث پاکستان موجودہ کپاس بوائی سیزن سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ اب ملک کو ایک مرتبہ پھر اربوں ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ پر مزید دباؤ بڑھے گا۔تازہ خط سے ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اور وفاقی بیوروکریسی کے درمیان بڑھتی کشیدگی واضح ہوتی ہے، جہاں اپٹما نے متعلقہ وزارتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر منظور شدہ اصلاحاتی فیصلوں کو دانستہ طور پر فائلوں میں دبا کر بیٹھی ہیں۔اپٹما نے اسحاق ڈار کو لکھا، “منظور شدہ روڈ میپ پر مسلسل عملدرآمد نہ ہونا کپاس کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے اور قومی سطح پر کپاس بحالی کے مقصد کو نقصان پہنچا رہا ہے”، اور ان سے “فوری ذاتی مداخلت” کی درخواست کی۔

اہم خبریں سے مزید