• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محکمہ انسدادِ بدعنوانی کا عملہ مسلسل ہراساں کررہا ہے، خاتون پرنسپل کا ڈائریکٹر کالجز کو خط

کراچی( سید محمد عسکری / اسٹاف رپورٹر) گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ناظم آباد کی پرنسپل پروفیسر ارم سلطانہ نے محکمہ کالج ایجوکیشن سے محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی کے نام ایک خط میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ انسدادِ بدعنوانی مسلسل انہیں اور ان کے عملے کو ہراساں کررہا ہے۔ خط کے مطابق غیر تدریسی عملے، بشمول خاتون سپرنٹنڈنٹ، کو صبح سے رات 9 بجے تک تفتیش کے لیے دفتر میں بٹھایا جارہا ہے۔ پرنسپل ارم سلطانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات اس دور سے متعلق ہیں جب کالج کی پرنسپل شہلا بشیر تھیں، اور اس دور میںمبینہ طور پر کالج سپرنٹنڈنٹ نفیس پر طلبہ سے رشوت لینے اور ایڈمٹ کارڈز و مارک شیٹس کی رقم میں خوردبرد کے الزامات عائد کیئے گئے تھے۔ ارم سلطانہ نے کہا کہ بطور پرنسپل چارج سنبھالنے کے بعد سے کالج کے مالی معاملات شفاف انداز میں چل رہے ہیں، تاہم محکمہ انسدادِ بدعنوانی مسلسل انہیں اور ان کے عملے کو ہراساں کررہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تحقیقات میں مکمل تعاون کیا اور متاثرہ طالبات کو بھی پیش کیا، تاہم اس کے باوجود ہراسانی کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 20 مئی کو موصول ہونے والے ایک اور خط میں کالج اور انتظامیہ کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے ڈائریکٹر کالجز سے مطالبہ کیا کہ محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے متعلقہ حکام کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے کیونکہ ان الزامات سے ان کی ساکھ اور ادارے کے وقار کو نقصان پہنچا ہے۔محکمہ کالج ایجوکیشن اور محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اہم خبریں سے مزید