اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خلع اور قانون کی بنیاد پر دی جانے والی علیحدگی دو مختلف قانونی راستے ہیں، اگر بیوی شوہر کے خلاف ظلم و ستم کے الزامات ثابت نہ کر سکے لیکن ازدواجی تعلق برقرار رکھنے پر آمادہ بھی نہ ہو تو فیملی کورٹ خلع کی ڈگری جاری کرنے سے قبل خاتون کی واضح، باخبر اور رضاکارانہ رضامندی حاصل کرنے کی پابند ہوگی، خصوصا ایسے معاملات میں جہاں حق مہر اور دیگر مالی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔ عدالت نے قرار دیا کہ فیملی عدالتیں کسی بھی مقدمے کو خودکار طور پر خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ظلم و ستم کے دعوے کو بغیر رضامندی کے خلع کے فیصلے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مسماۃ سیلاب اختر کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ، مینگورہ بینچ (دارالقضا) سمیت ماتحت عدالتوں کے فیصلے جزوی طور پر برقرار رکھتے ہوئے معاملہ دوبارہ متعلقہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خلع اور قانون کی بنیاد پر دی جانے والی علیحدگی (statutory dissolution) دو مختلف قانونی راستے ہیں۔