میرپورخاص (رپورٹ/ سید محمد خالد) نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی خودکشی و ہراسمنٹ کیس میں پانچ رکنی اعلی سطحی ٹیم نے انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔ انکوائری رپورٹ میں ایک رکن ڈی ایس پی کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔ ادہر ورثاء نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق میڈیکل طالبہ فہمیدہ لغاری نے نفسیاتی دباؤ کے تحت خودکشی کی۔ جبکہ متوفیہ طالبہ تعلیمی و ذاتی وجوہات پر پہلے سے تناؤ میں تھی۔ کالج لیکچرر کے غیرمناسب رویئے اور پیسوں کے مطالبے نے طالبہ کی ذہنی حالت پر مزید برا اثر ڈالا۔ کالج پرنسپل کی سنگین انتظامی کوتاہیاں بھی سامنے آئیں جنہوں نے طالبہ کی شکایت پر کوئی کارروائی نہ کی۔ نجی میڈیکل کالج میں ایک کم تعلیم یافتہ شخص کو بطور پروفیسر تعینات ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے اور کاروائی کی سفارش کی گئی۔ آئی جی سندھ کے حکم پر بنائی گئی پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کے ایک رکن ڈی ایس پی، سراج الدین کا اختلافی نوٹ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کالج لیکچرر و مرکزی ملزم عابد علی کا متوفیہ طالبہ سے ادھار پیسے مانگنا ایسا عمل نہیں جو موت کا سبب بنے۔