جیکب آباد (نامہ نگار) پسند کی شادی پر 119 گھر جلنے کی سرکاری فہرست نے وزیر داخلہ کے دعوے کی نفی کردی، محمد صدیق آرائیں سانحے میں تباہی کی اصل تصویر سامنے آگئی انتظامیہ کی فہرست میں ایک گھر کے چار افراد کے نام بھی شامل بے جابطگی کا بھی انکشاف تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع پر جلائے گئے گاؤں محمد صدیق آرائیں کے معاملے میں ضلعی انتظامیہ کی تیار کردہ رپورٹ نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ٹھل کی جانب سے تیار کی گئی 119متاثرہ گھروں کی فہرست سندھ حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندانوں میں ملہار برادری کے گھروں کا نقصان پانچ لاکھ روپے جبکہ دیگر متاثرین کا نقصان تین تین لاکھ روپے ظاہر کیا گیا ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ واقعے کے دوران 50سے 60گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ باقی گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مرتب کی گئی فہرست نے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کے اس بیان کو بھی متنازع بنا دیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صرف 10 سے 15 گھر جلائے گئے جبکہ باقی گھروں کو مالکان نے خود آگ لگائی تھی۔