کراچی (نیوز ڈیسک) گھریلو بیٹریوں کا انقلاب، بجلی کے بلوں میں کمی اور توانائی نظام میں بڑی تبدیلی، ایک تہائی آسٹریلوی گھروں میں سولر پینل، بیٹریوں میں ریکارڈ اضافہ، سبسڈی نے گھریلو بیٹری مارکیٹ کو نئی رفتار دی، گیس سے پیدا مہنگی بجلی پر انحصار کم، صارفین اب صرف بجلی استعمال نہیں کرتے اسے ذخیرہ اور فروخت بھی کرتے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں گھریلو سطح پر سولر توانائی اور بیٹریوں کے استعمال میں غیرمعمولی اضافے نے توانائی کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ملک میں ہر تین میں سے ایک گھر میں سولر پینل نصب ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران دنیا بھر میں نصب ہونے والی گھریلو بیٹری صلاحیت کا تقریباً 60 فیصد حصہ آسٹریلیا میں لگایا گیا۔ صرف جولائی سے اب تک تقریباً 4 لاکھ 15 ہزار بیٹریاں نصب کی جا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیٹریوں کی بدولت دن میں پیدا ہونے والی شمسی توانائی کو رات کے اوقات میں استعمال کیا جا رہا ہے جس سے گیس سے چلنے والے مہنگے بجلی گھروں کی ضرورت کم ہو رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے گھریلو بیٹریوں کی خریداری پر 30 فیصد رعایت دینے کے لیے اربوں ڈالر کی سبسڈی فراہم کی جس کے بعد تنصیبات کی رفتار توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔