• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہڑتال میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے، ٹرانسپورٹ افسر جامعہ کراچی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ افسر نے جامعہ کی ایک ملازمین تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں پر ٹرانسپورٹ سروس بند کرانے، غیر قانونی ہڑتال میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالنے اور عملے کو دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے جامعہ انتظامیہ سے فوری انتظامی اور تادیبی کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے، رجسٹرار جامعہ کراچی کو ارسال کئے گئے ایک مراسلے میں ٹرانسپورٹ یونٹ کے انچارج محمد دلدار خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جامعہ کراچی کی ٹرانسپورٹ سروس اور اسٹوڈنٹس پوائنٹ بس سروس کے معمول کے آپریشن کو متاثر کرنے کے لیے بعض افراد مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، مراسلے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چار ملازمین اور ان کے ساتھی ٹرانسپورٹ یونٹ کے عملے کو ہڑتال میں شامل ہونے اور ٹرانسپورٹ سروس بند کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں، خط کے مطابق مذکورہ افراد نے احتجاجی جلوس اور مظاہرے کے دوران ٹرانسپورٹ یونٹ کو زبردستی بند کرانے پر زور دیا اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ آئندہ بھی ایسی کوششیں کی جاسکتی ہیں، مراسلے میں کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونٹ طلبہ و طالبات کی آمدورفت کے لئے ایک ضروری سروس ہے اس لئے اسے بند کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹ یونٹ کا عملہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا، سرکاری جامعہ میں ایسی ہڑتالیں اور دفاتر کے بائیکاٹ جن سے تدریسی سرگرمیاں، امتحانات اور انتظامی امور متاثر ہوں، سرکاری ملازمین کے نظم و ضبط کے قواعد کے منافی ہیں، مراسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملازمین کو زبردستی ہڑتال پر مجبور کرنا یا دفاتر بند کرانا مختلف فوجداری قوانین کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہوسکتا ہے۔
ملک بھر سے سے مزید