• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افشاں نوید

عید کے چوتھا دن تھا اور شام ڈھل رہی تھی۔ باورچی خانے میں اب وہ ہنگامہ نہیں تھا، جو پچھلے تین دن سے مسلسل برپا تھا۔ بڑے بڑے دیگچے دُھلنے کے بعد اپنی جگہ پر رکھے جا چُکے تھے اور وہ سب رشتے دار، جو پورا سال صرف تہواروں کے دسترخوان ہی پراکٹھے ہوتے ہیں، اپنے اپنے حصّے کی خوشیاں سمیٹ کرجا چُکے تھے۔ سائرہ گھر کی دوسرے نمبر کی بہو ہے۔ اُس کے جیٹھ اور دیور بیرونِ مُلک ہوتے ہیں۔

ساس سُسر حیات ہیں، تو اس لیے عید کے موقعے پر مدعو کیے جانے والے بیٹوں، بیٹیوں، دامادوں، نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کی تعداد پچاس سےتجاوز کرجاتی ہے۔ سائرہ کو مہمانوں کی خاطرتواضع کرتے کرتے تھکن تو ہوجاتی ہے، مگر خوشی کی تھکاوٹ بھی خوشی ہی دیتی ہے۔

مسالوں کی خوش بُو ابھی تک در و دیوار میں بسی ہوئی تھی اور فریزر قُربانی کے گوشت سے بَھرے ہوئے تھے۔ سائرہ نے فریزر بند کیا اور سوچنے لگی۔ ’’کتنا گوشت ہے ایک فریزرمیں … قیمہ الگ، تکّوں کی بوٹیاں الگ، بونگ الگ، پائے الگ، چانپیں الگ۔ بقرعید سے پہلے کتنی فکر تھی کہ گوشت سنبھلے گا کیسے؟ فریزرخالی کرنے کے باوجود جگہ پوری ہوگی یا نہیں؟ کس کو کتنا دینا ہے اور کس کس کے گھر بھیجنا ہے؟

پھر اچانک اُسے اپنی بیوہ پھوپھی یاد آگئیں۔ وہی پھوپھی، جن سے پچھلے دو برس سے صرف فون پر ’’عید مبارک‘‘ ہو جاتی ہے۔ وہ اکیلی رہتی ہیں۔ بیٹے بیرون ملک مُقیم ہیں۔ ہر بار کہتی ہیں کہ ’’بیٹا! کبھی فرصت سے آؤ، تو ساتھ چائے پئیں گے۔‘‘ لیکن چار بچّوں کی ماں سائرہ کو کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ اُس نے فریزر دوبارہ کھولا۔ ایک تھیلی نکالی اور پھر دوسری۔

پھر اُس نے چولھا جلایا۔ پیاز گرم تیل کی کڑاہی میں گرے، تو گھر بھر میں خوش بُو پھیل گئی۔ بیٹی نے حیرت سے پوچھا۔ ’’امّی! ابھی پھر سے کھانا… آپ نے تو رات تک کا کھانا بنا لیا ہے؟‘‘ سائرہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ہاں، مگریہ اپنے لیے نہیں ہے۔‘‘ اُس رات اُس نے نہاری کی ایک چھوٹی سی دیگچی تیار کی اوراس کے ساتھ ہرا دھنیا، ادرک اور چند گرما گرم نان رکھے اور پھر وہ ہوا کہ جو اکثر نہیں ہوتا۔

سائرہ نے کھانا صرف بھیجا نہیں، بلکہ خُود لے کر گئی۔ دروازہ کُھلا، تو پھوپھی کی آنکھوں میں جو حیرت اورخوشی نظرآئی، وہ شاید کسی قیمتی ترین تحفے سے بھی نہیں مل سکتی تھی۔ ’’ارے… تم اس وقت؟‘‘ انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’بس دل چاہ رہا تھا کہ آپ کے ساتھ کھانا کھایا جائے، سو……‘‘ سائرہ نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اُس رات نہاری میں محبّت کا تڑکا تھا اور شاید یہی ’’قربانی‘‘ کی اصل رُوح ہے کہ کسی اپنے کا دِل جیت کر ربّ کی رضا حاصل کرلی جائے۔

اب تک ہم میں سے اکثر لوگوں نے قربانی کا گوشت تقسیم کر دیا ہوگا اور فریزر بھی بَھر چُکے ہوں گے، مگر عید صرف گوشت محفوظ کرنے کا نام نہیں، رشتے مضبوط کرنے کا موسم بھی ہے۔ کتنے ہی گھر ایسے ہیں کہ جہاں گوشت تو پہنچ جاتا ہے، مگر کوئی اپنا نہیں پہنچتا۔ کتنے رشتے ہیں، جو صرف ’’Forwarded Eid Mubarak‘‘ پر زندہ ہیں۔ کتنی شیف خواتین ہیں، جو سارا سال دوسروں کے لیے کھانے پکاتی ہیں، مگر کوئی اُن کے دروازے پر ایک پلیٹ سالن لے کر نہیں جاتا۔

درحقیقت، کچا گوشت بانٹنے سے زیادہ محبّت، پکا ہوا کھانا بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ قُربانی کے گوشت میں کلیجی کے بھی تین حصّے ہوتے ہیں۔ ہمیں اچّھی طرح یاد ہے کہ امّی جان مرحومہ پوری کلیجی پکوا لیتیں۔ پھر تین حصّےکرتیں، ایک حصّہ پڑوس میں بھیجتیں، دوسرا ماسی کے لیے رکھ لیتیں اور تیسرا گھر والوں کے لیے۔ اور ہماری پڑوسن پورا سال ہمارے گھر سے آنے والی پکی پکائی کلیجی کا انتظار کرتیں۔

ایک چھوٹا سا حلیم کا ڈونگا، ایک پلیٹ بریانی، ایک پیالا گرم شوربا اور ساتھ لکھا ہوا یہ جملہ کہ ’’آپ کے لیے دُعائیں۔‘‘ یہ صرف کھانا نہیں، بلکہ تعلق کی تجدید ہے۔ ہماری مائیں یہ فن جانتی تھیں۔ اُنہیں معلوم تھا کہ دسترخوان صرف پیٹ نہیں بَھرتے، دل بھی جوڑتے ہیں۔

کسی کے گھر ولادت ہوئی ہے، تو کھانا بھیجو۔ کسی کے ہاں کوئی بیمار ہے، تو یخنی اور دلیا بھیجو۔ کسی کی بیٹی بیاہی گئی ہے، تو رخصتی سے قبل کھانا میٹھے کے ساتھ پہنچاؤ۔ اس موقعے پر پڑوسی دُلہن کے لیے دُودھ جلیبی بہت اہتمام سے بھیجتے تھے۔ اس کے علاوہ اگر کسی کا شوہر بیرونِ مُلک ہوتا، تو اُس کے بچّوں کے لیے کچھ خاص بنا کر بھیجا جاتا۔

یہ صرف رِیتیں روایتیں نہیں تھیں،بلکہ معاشرے کولطیف رکھنے کے طریقے تھے۔ آج ہمارے فریزرز تو بڑے ہیں، مگر دسترخوان چھوٹے۔ اب ہم گوشت محفوظ کرتے ہیں، تعلق نہیں، حالاں کہ کبھی کبھی سالن کی ایک پلیٹ وہ کام کردیتی ہے، جو برسوں کی ملاقاتیں نہیں کرتیں اور اب تو محبّت پہنچانے کے راستے بھی آسان ہوگئے ہیں۔ آپ خُود نہ جا سکیں، تو رائیڈر کے ذریعے بھیج دیں۔

ایک ڈبّے میں نہاری، پائے یا کوئی بھی کھانا رکھ دیں اور اس پر مختصر سا یہ نوٹ لکھ دیں کہ ’’عید پر آپ کی یاد بہت آئی۔‘‘ یقین جانیے، بعض گھروں میں کھانا نہیں، خوشی داخل ہو گی۔ کوئی چھوٹی موٹی نہیں، بلکہ بےحساب خوشی اور آپ تو جانتی ہی ہیں کہ خوشیاں تقسیم کرنے سے بڑھتی ہیں۔ خواتین اس روحانی مسرّت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کھانے میں صرف مسالےنہیں، نیّت بھی شامل ہوتی ہے۔ اِسی لیے توماں کے ہاتھ کی بنی دال بھی یاد رہتی ہے اور بہن کے ہاتھ کی بنی بریانی بھی۔

قربانی کے بعد کے دن دراصل تعلقات کو فروغ دینے کا خُوب صُورت موقع ہوتے ہیں۔ ہم چاہیں، تو اِن ہی دیگچیوں سے رشتوں کی گرمائش اور حلاوت واپس لا سکتی ہیں۔ نند سے ناراضی ہے، تو اُسے کچھ تیار کر کے بھیج دیجیے۔ پُرانی پڑوسن سے کافی عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی، تو ماحضر کے ساتھ اُس کے دروازے پر دستک دیجیے۔ کسی رشتے دار سے فاصلے بڑھ گئے ہیں، تو شاید ایک پلیٹ قورما پُل بن جائے۔

یاد رہے، اسلام صرف عبادات کا دِین نہیں، تعلقات کا دِین بھی ہے اور صلۂ رحمی صرف فون کالز سے نہیں ہوتی، کبھی کبھی گرما گرم روٹیوں سے بھی ہوتی ہے۔ عید گزر رہی ہے، مگر ابھی بھی وقت ہے۔ فریزر کھولیے، گوشت نکالیے اور اس بار صرف باربی کیو کے مدعوئین کا دائرہ وسیع کر لیجیے۔ کھانے پینے کے دن ہیں۔ پکائیے، کھائیے اور کھلائیے۔ اللہ کریم آپ کے دسترخوان کو ہمیشہ وسیع رکھے، آمین۔