• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میمونہ ہارون

مخلوق کی دُھتکار، دُھتکار تھوڑا ہی ہوتی ہے، یہ توربّ العالمین، ارحم الرّاحمین اور الرحمٰن الرّحیم کی بے پایاں رحمت کی پُکار ہوتی ہےکہ خالقِ کائنات کو اپنے جس بندے سے زیادہ پیار ہوتا ہے، وہ اُس کے لیے مخلوق کی طرف جانے والے سارے دروازے بند کردیتا ہے۔ اُس کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی ایثار، قربانی اور وفائیں کسی کام آتی ہیں۔ وہ شخص اپنی ذات سے بھی بےگانہ ہوجاتا ہے۔ بہ قول غالب ؎ ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو بھی… کچھ ہماری خبر نہیں آتی۔

مگر ہم کیا سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ، جو بے نیاز ہے اور بے نیازی اُس کی شان، اُس کی ذات کا وصف ہے، ہمیں مخلوق کی جانب سے نا امید کر کے (نعوذُ باللہ) تنہا چھوڑ دے گا؟ کیا وہ ہمیں اذیّتوں کے اس سفر سے یوں ہی گزارتا رہے گا؟ کیا تنہائیوں کا عذاب واقعی عذاب ہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں،جن کے دُرست جوابات پر نہ صرف ہماری تربیت کا انحصار ہے بلکہ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ہماری رُوح میں پنہاں سچائیوں کو کھنگالا جاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ نفاق کیا ہے؟ ایک ہوتا ہے، عمل کا نفاق۔ اپنے اعمال میں ماسوا کی نیّت یا اُن کے لیے ریا کاری و دِکھاوا۔ یہ وہ کیفیات ہیں،جن کی جڑیں دِل میں پیوست ہوتی ہیں اور ثمر اعمال کی صُورت سامنے آتا ہے۔ لہٰذا، ان کو سمجھنا، پرکھنا اور بھانپنا آسان ہوتا ہے، مگر نفاق کی اُن کیفیات کو، جن کی جڑیں رُوح میں موجود ہوتی ہیں اور پَھل دِل میں پیدا ہوتا ہے، پہچاننا اوراُن سے بچنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

یہ وہی لمحہ ہے کہ جب اسباب اپنا اثرکھو دیں، کوئی خدمت کارگر اور کوئی تدبیر بارآور نہ ہو اور یوں محسوس ہونے لگے کہ صبر کے درخت پر صرف کانٹے ہی اُگتے ہیں۔ دُعا کے دوران آنسو بہتے بہتے خُشک اور ہاتھ شَل ہو جائیں اور دِل کے نہاں خانوں سے ایک صدا اُٹھتی ہو۔ ؎ اب تو فراقِ صُبح میں بُجھنے لگی حیات… بار الٰہ کتنے پہر رہ گئی ہے رات۔ احساس کا یہی لمحہ، ادراک کی یہی ساعت، ایک نئی منزل کا سفر ہوتی ہے۔

یہ وہ منزل ہے کہ جہاں لازمی نہیں کہ اُمیدیں پوری ہوجائیں اور مانگے ہوئے ثمرات ہاتھوں میں تھما دیےجائیں، مگر ان سے بھی بہت اعلیٰ وارفع نعمت سے دامن کو بھر دیا جاتا ہے، بشرطیکہ ہم ’’حسبی اللہ لا الہ الا علیہ توکلتُ و ربّ العرش العظیم‘‘ اور ’’لا الہٰ الا انت سبحانک انی کُنتُ من الظالمین‘‘ جیسے ’’قیمتی زیورات‘‘ سے اپنی رُوحِ بدن کو سجا لیں۔

ربِّ ذُوالجلال، ارحم الراحمین، شہنشاہوں کا شہنشاہ اور کُل جہاں کا پالن ہار جس طرح خُود بڑا ہے، بالکل اُسی طرح اس سے منسوب ہر شے افضل و برتر ہے۔ اُس کی محبّت و رفاقت کا حاصل ہونا ہر نعمت کے سامنے ہیچ ہے۔ وہ گوشت پوست سے بنے انسانوں سے ہماری اُمیدیں اس لیے توڑتا ہے کہ ہم اپنے دِل کے نہاں خانوں میں صرف اُسی سے وابستہ توقعات کی دُنیا آباد کرلیں۔ وہ انسانوں کو ہمارے درد سے اِس لیے بے بہرہ کردیتا ہے کہ ہم صرف اس کے در پردستک دیں اور رُوح کے کانوں سے اُس کی آواز سُنیں۔

گرچہ قُربِ الہٰی کےسفر اوراس کےثمرات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، لیکن یہ صرف خوش نصیبوں کے حصّے ہی میں آتے ہیں۔ اپنا دِل ماسوا سے خالی کیے جانے کے بعد جب ہم سجدے میں سَررکھتے ہیں، تو ’’لا،لا‘‘ کی تکرار صرف زبانِ قال ہی سے نہیں، بلکہ زبانِ حال سے بھی ہوتی ہے اور پھر اس صاف سُتھرے خالی گھر میں ’’مکین‘‘ آ کر ٹھہرتا ہے۔ لازمی نہیں کہ یہ دِل اُس شخص کا ہو، جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا اور جو فرشتوں کی مانند گناہوں سے پاک ہو، لیکن یہ یقیناً وہ دِل ہوتا ہے کہ جسے اللہ نے خود توڑا۔

یہ وہ دِل ہے، جب اُسے کہیں شنوائی نہ ملی، تو اُس نے پروردگار کے حضور آ کر یہ عرض کی کہ ’’اے اللہ! تجھ سے محبّت کرنے والے اور تجھ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے تو بے تحاشا ہیں، لیکن اے میرے معبود، میرے پالن ہار، مُجھے تنہا کرنے والے! تیری ذات اور تیری عفّت کی قسم، میرا سوائے تیرے اور کوئی نہیں، میرا صرف اورصرف تُو ہے۔

اگر تُونے بھی مُجھے دُھتکار دیا، مُجھے میری سیاہ بختیوں کے طعنے دیے، مُجھے میرے اعمال کے سبب رَد کردیا، تو مَیں کس کا دَر کھٹکھٹاؤں گا؟ میرے پاس ایسی کوئی دہلیز نہیں کہ جس پر سجدہ ریز ہوں۔ میرے پاس ایسی سماعتیں نہیں کہ جنہیں اپنا حال سُناؤں، یاربّ، یا ربّ، یا ربّی، یا ربّی، ربّی لا اشرک بہ شئیا…‘‘

وہی گریہ وزاری، وہی تنہائی، وہی سناٹا، وہی بے بسی اور وہی عاجزی کہ جو بنی اسرائیل کے99 قتل کرنے والے ایک گنہ گار شخص کو اللہ کی بارگاہ میں ایک عابد و ولی اللہ بنا گئی، تو پھر بتائیے،کیا گناہوں کے سبب توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں؟ کیا ولایت کو اعمال سے مخصوص کیا جا سکتا ہے؟

کیا اس نعمت کو قفل لگائے جا سکتے ہیں؟ کسی دانا نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’نیکی کے تکبّر سے گناہ کی ندامت بہتر ہے۔‘‘ تو اللہ ہمیں تنہا اس لیےکر رہا ہوتا ہے کہ ہم عاجز، بے بس، شرمندہ اور نادم ہو کر دِل کے نہاں خانوں میں اُس کی پُکار کی مٹھاس سُننے کے قابل ہو سکیں۔ پھر وہ دردِ دل دے کر یہ ارشاد کرتا ہے کہ ’’ہم اُسی گھر میں بسیں گے، جِسے ہم نے برباد کیا۔‘‘

یہ ایک عجیب درد اور ایک عجیب احساس ہے، جو ہم رُوح سے رُوح تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ سہیلیو، ہم جولیو! کبھی کبھی دِل کے ایوانوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تڑپ بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے ناں۔ یقیناً یہ شرف اللہ کے فضل سے حاصل ہوگا، لیکن اس مٹھاس کی حلاوت کسی آلودہ برتن میں نہیں انڈیلی جاتی۔ یہ آلودگی گناہوں کی بھی ہوتی ہے اور توجّہ الی المخلوق کی بھی۔ وہ دِل ، جو ہر وقت مخلوق کی طرف متوجّہ ہوتا ہے کہ مخلوق میرے بارے میں کیا سوچتی ہے۔

اللہ ربّ العزّت بہت عظیم ہے۔ وہ اسباب کو معطّل اس لیے کرتا ہے کہ ہمیں ’’مسبّب الاسباب‘‘ سے جوڑنا چاہتا ہے۔ ظاہرکی آنکھیں اس لیے بند کر دیتا ہے کہ باطن کی آنکھ کُھلنے والی ہوتی ہے۔ وہ ہمیں ہمارے سابقہ گناہوں کے طعنے نہیں دیتا بلکہ معاف کرکے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، بلکہ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے، وقت کے بدترین گنہ گار کو بھی ولی بنا دیتا ہے۔

یہ سچّائیاں ہیں، کہانیاں نہیں۔ میرے ربّ کی رحمت کی سچّائیاں۔ یہ سب کچھ صرف اللہ ربّ العزت کے ساتھ سچّے اور خالص گُمان، مکمل سُپردگی اور اس یقین کے ذریعے ہی پایا جاسکتا ہے کہ وہ میرا ہے اور کبھی مُجھے ضائع نہیں کرے گا اور جتنا اس نے مُجھے نوازا ہے، وہ صرف اُسی کا احسان ہے۔ جو نہ ملا، وہ میرا زوال تھا اور جو کچھ ملا، اُس کا کمال ہے۔

؎ عشرت سے مجھے کام نہ دنیائے طرب سے… دیکھا ہے نہاں خانۂ دل، آنکھ نےجب سے…اے ظلمتِ حالات سے جی چھوڑنے والو…پَوپھٹتی ہے ہر روز اِسی سینۂ شب سے …خوشیوں کے مقدر میں ہے، صدموں کی رفاقت… کانٹے یہ صدا دیتے ہیں، پھولوں کے عقب سے…اللہ رے چہرے پہ یہ اعجازِ محبت … رنگ اور نکھر آتا ہے کچھ رنج و تعجب سے… دو گام چلے تھے کہ نظر آگئی منزل… مرکب کوئی بہتر نہ ملا، ترک ِطلب سے… پل بھر میں وہ افسانۂ دل کہہ گئی آنکھیں …برسوں میں بھی جس کو نہ سُنا پاؤں مَیں لب سے…اے صُبح کو تنویرِ شفق دیکھنے والو… پُھوٹا ہے یہ رنگ اصل میں قربانیٔ شب سے… کیا کم ہے یہ اعزاز کہ اُس بزم میں عاصیؔ… ہے ذکر میرا ظالم و ناداں کے لقب سے۔ ۔