• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2025ء کی فاش غلطی کے بعد خاموشی سے AGP کی سالانہ رپورٹس کی تیاری کے طریقہ کار میں تبدیلی

انصار عباسی

اسلام آباد :…باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ میں سرکاری کھاتوں میں 375 ٹریلین روپے کی بے ضابطگیوں کے دعوے سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ادارے نے خاموشی سے سالانہ رپورٹس کی تیاری کے طریقے میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں تاکہ اس نوعیت کی شرمندگی کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے۔ ذرائع کے مطابق، یہ تبدیلیاں موجودہ آڈیٹر جنرل نے متعارف کرائیں۔ آڈیٹر جنرل کو گزشتہ سال اس تنازع کے بعد تعینات کیا گیا تھا۔ پہلے تو ان اعداد و شمار کا دفاع کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ٹائپنگ کی غلطیاں (ٹائپوگرافیکل ایررز) قرار دیا گیا۔ نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت سالانہ آڈٹ رپورٹس کے حجم میں نمایاں کمی متوقع ہے، کیونکہ اب صرف وہی نکات شامل کیے جائیں گے جنہیں حکام ’’مضبوط پیراز‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ماضی کے برعکس اب رپورٹس میں مختلف محکموں اور اداروں میں بے ضابطگیوں، بدانتظامی، بدعنوانی، فضول اخراجات یا مالی خلاف ورزیوں کی رقم کو ظاہر کرنے والے مجموعی اعداد و شمار شامل نہیں کیے جائیں گے۔ نئے طریقۂ کار سے واقف حکام کے مطابق، یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ مختلف برسوں اور متنوع زمروں میں آڈٹ مشاہدات کو یکجا کرنے سے اکثر گمراہ کن تاثر پیدا ہوتا تھا اور ادارے کی رپورٹنگ کی ساکھ پر سوالات اٹھتے تھے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ نئے نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف مکمل جانچ پڑتال اور اعلیٰ سطح پر منظوری کے بعد کے آڈٹ مشاہدات ہی حتمی رپورٹس میں شامل کیے جائیں۔ ایک ذریعے نے کہا کہ اب صرف وہی آڈٹ پیراز شامل ہوں گے جو اعلیٰ ترین سطح پر کلیئر ہوں گے اور اس کا مقصد درستگی میں بہتری، تکرار سے بچائو اور مبالغہ آمیز یا مشکوک اعداد و شمار کے امکانات کم کرنا ہے۔ یہ اقدام گزشتہ سال کے غیر معمولی تنازع کے بعد سامنے آیا، جب آڈیٹر جنرل نے 375 ٹریلین روپے کی مالی بے ضابطگیوں پر مشتمل رپورٹ جاری کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سے بھی کہیں زیادہ اور وفاقی بجٹ سے کئی گنا بڑی رقم تھی۔ بعد ازاں رپورٹ میں ترمیم کی گئی اور اے جی پی نے تسلیم کیا کہ ابتدائی ورژن میں ’’ٹائپنگ کی غلطیاں‘‘ تھیں اور اصل رقم 9.769؍ ٹریلین روپے تھی۔ اس واقعے نے ملک کے اعلیٰ ترین آڈٹ ادارے کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کیے اور ماہرینِ معیشت، بیوروکریٹس اور مالیاتی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، جن میں سے اکثر نے کہا کہ یہ اعداد و شمار معاشی اور مالیاتی منطق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ذرائع کے مطابق، حالیہ تبدیلیاں اے جی پی کے اندر ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد ادارہ جاتی ساکھ کو بحال کرنا اور آڈٹ رپورٹنگ سے متعلق آئندہ تنازعات سے بچنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید