• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران سے معاہدہ کھٹائی میں، مذاکرات کاروں کو کہہ دیا، جلدی نہ کریں، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے، امریکی صدر

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) امریکا ایران ممکنہ امن معاہدہ کھٹائی میں پڑگیا ‘ ایران کی تسنیم نیوزایجنسی کے مطابق دو یا تین شقوں پر اختلاف اب بھی برقرارہیںجبکہ ایک باخبر ایرانی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایاہے کہ واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اورلبنان میں جنگ بندی کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیاہے ‘ہوسکتا ہے کہ فریقین کے مابین معاہدہ نہ ہو‘ممکنہ معاہدے سے باخبر ایرانی ذریعے کے مطابق اگر امریکا نے رکاوٹیں کھڑی کرنا جاری رکھا تو مفاہمت کی یاد داشت کو حتمی شکل دینے کا کوئی امکان نہیں ہوگاجبکہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیا مین نتن یاہوکا کہنا ہے کہ ان کی اور صدرٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ‘ ہمارے مابین اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں بڑھ رہے ہیں‘ امریکی ٹیم کو کہا ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کریں‘کوئی غلطی نہیں ہونی چاہئے ‘ وقت ہمارے حق میں ہے ‘ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی‘ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیوکا کہنا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر ملے گی لیکن حتمی نہیں‘جوہری معاہدہ72گھنٹوں میں نہیں ہو سکتا‘یہ انتہائی تکنیکی معاملات ہوتے ہیں ‘خطے کے سات یا آٹھ ممالک ایسے ہیں جو اس طریقہ کار کی توثیق کر رہے ہیں اور ہم اس طریقہ کار پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں‘ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں‘ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈرجنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج تاریخ کے دردناک تجربات کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دیں گی اور کسی بھی جارحیت کا سخت اور انتہائی شدید انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیںجبکہ سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کاکہناہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا تہران کا قانونی حق ہے۔ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے سے خلیج فارس میں 50 سالہ بدامنی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہوا ہے۔ ایران نے صوبہ ہرمزگان میں اسرائیلی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیاہے جبکہ پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اتوار کو کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 بحری جہاز ان کی افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور اجازت حاصل کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں‘ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے امریکا ایران معاہدے کی طرف پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہےکہ ہمیں ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو تنازع کو حقیقی معنوں میں کم کرے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور بغیر کسی ٹول ٹیکس کے جہاز رانی کی مکمل آزادی کی ضمانت دے۔ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق صدرٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں جاری ہیں‘ معاہدے پر دستخط ہونے تک ایران پر امریکی پابندیاں برقرار رہیں گی اور فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں‘ امریکہ و ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں تاہم ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کر سکتا۔انہوںنے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا خصوصاً ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے ذریعے ۔انہوںنے یہ بھی عندیہ دیا کہ ممکن ہے کہ ایران بھی مستقبل میں ان معاہدوں کا حصہ بننے میں دلچسپی لے۔اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ اگرمیں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کروں گا تو وہ بہت اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا، اوباما کے کیے گئے معاہدے جیسا نہیں‘ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے لیکن ابھی تک کسی نے اسے دیکھا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کے بارے میں جانتا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر ابھی مکمل مذاکرات بھی نہیں ہوئے ہیں‘اس لیے ان ناکام لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں جو ایک ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ علاوہ ازیں بنیامین نتن یاہونے کہا ہے کہ انہوںنے گزشتہ رات صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی ہے ۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نتن یاہوکا کہنا تھاکہ صدر ٹرمپ اور اُن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔اس عمل میں افزودہ جوہری مواد کا خاتمہ اور تہران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میری پالیسی، صدر ٹرمپ کی طرح تبدیل نہیں ہوئی‘ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ نیتن یاہو نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہناتھاکہ دونوں قوموں کے درمیان شراکت داری میدانِ جنگ میں ثابت ہو چکی ہے اور یہ پہلے کبھی اتنی مضبوط نہیں تھی۔ٹرمپ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر خطرات کے خلاف اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری جانب رہبراعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو تسلیم کرنا امریکا کے لیے سستاترین آپشن ہے‘تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی کاکہناتھاکہ ہرمز پر اپنی خودمختاری کے ٹھوس قانونی اور سیکورٹی اسباب موجود ہیں۔یہ انتظام آزاد تجارت کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ بدامنی اور فوجی مہم جوئی کو روکنے کے لیے ہے۔جنگ کا تسلسل امریکی معیشت اور قوم کو تباہی کی کھائی میں لے جائے گا، اس لیے ایران کی طرف سے پیش کی گئی منصفانہ مذاکرات کی میز کو قبول کرنا ان کے لیے سب سے کم لاگت والا آپشن ہے ۔محسن رضائی کا مزیدکہناتھاکہ امریکااسرائیل جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے زوال کو جنم دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار سپر پاور امریکا ایک بار پھر زوال پذیر ہوا ہے‘امریکا اب ماضی والا امریکا نہیں رہے گا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج اورپاسداران انقلاب کے ہاتھ اب بھی ٹریگرپر ہیں۔

اہم خبریں سے مزید