کراچی (سید محمد عسکری) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین نے کہا ہے کہ بہترین حکمت عملی اور مالی نظم و ضبط اور انتھک کاوشوں کی بدولت داؤد یونیورسٹی کا بجٹ نہ صرف سرپلس ہے بلکہ تمام مالیاتی اعشاریئے اور گریجویٹی، پنشن فنڈ ، پرویڈنٹ فنڈ بھی اپ ڈیٹڈ ہیں ، داؤد یونیورسٹی کا خصوصی خیال رکھنے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی شکر گزار ہوں جنہوں نے یونیورسٹی کے امور چلانے میں ہمیشہ مدد کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے بتایا کہ مرکزی جناح کیمپس میں انفرااسٹرکچرکی بہتری اور تعمیر و ترقی سے یونیورسٹی کی شکل ہی بدل دی ہے ، تمام انجینئرنگ پروگرامز اور آرکی ٹیکچر پروگرام اب جناح کیمپس میں آگئے ہیں جبکہ گلشن اقبال میں موجود اقبال کیمپس کو طلباء کی رہائش گاہ اور اسپورٹس سہولت کے طور پر تعمیر کیا جارہا ہے ، قلیل عرصے کے دوران سکھر مین سینٹر فار انٹرپروینیورشپ ، مینجمنٹ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اور کراچی کے علاقے گلبرگ میں فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ سائنسز کا قیام داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کامیاب اسٹوریز ہیں جہاں مصنوعی ذہانت ، ڈیٹا سائنسز ، سائبر سیکورٹی، بزنس ، انٹرپرنیورشپ جیسے کامیاب پروگرامز پڑھائے جارہے ہیں ، داؤد یونیورسٹی نہ صرف انجینئر بلکہ سائنسدان بھی بنا رہی ہے ۔ ان سینٹرز کا قیام اور انفرااسٹرکچر و تعمیر و ترقی کے تمام منصوبے اپنے فنڈز سے کئے ہیں اور اس کیلئے حکومت سے کوئی اضافی فنڈ یا گرانٹ نہیں لی ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میرے پیشرو کی جانب سے یونیورسٹی حوالے کئے جانے کےبعد سے تقریباً ایک ارب روپےسے زائد کی واجب الادا رقم کی ادائیگی کے علاوہ پنشن فنڈ کو بحال کیا جو میرے چارج سنبھالنے سے پہلے صفر تھا، داؤد یونیورسٹی میں بطور وائس چانسلر میرے آخری 10ماہ رہ گئے اور دوسری مدت لینے میں دلچسپی نہیں۔