• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این ایف سی ایوارڈ میں اصلاح کا عندیہ، نیا فارمولا آبادی میں کمی لانے والے صوبوں کی حوصلہ افزائی کرے، وزیر خزانہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ) آبادی کے انتظام پر جیو کی عظیم بحث ’’گریٹ ڈیبیٹ وقفہ‘‘ میں وفاقی وزرائے خزانہ اور صحت نے آبادی کے استحکام کو ’’انتہائی اہم قومی ترجیح‘‘ قرار دے دیا۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سینئر وزراء، ممتاز ماہرینِ آبادی اور معروف مذہبی اسکالرز نے بے قابو آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لئے ’’خطرات میں کئی گنا اضافہ کرنے والا عنصر‘‘ اور ’’بقا کا ہدف‘‘ قرار دے دیا۔ شرکاء نے فوری پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے این ایف سی ایوارڈ میں اصلاح کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ نیا فارمولا آبادی میں کمی لانے والے صوبوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ وسائل کی تقسیم کا نیا اور موثر فارمولا بنایا جا سکتا ہے جو انسانی ترقی کو اہمیت دے، صوبوں کا اتفاق رائے اچھی پیش رفت ہوگی ۔وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نےمانع حمل ادویات اور مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ڈاکٹر اکبر زیدی نے کہا کہ مانع حمل ذرائع مفت فراہم کئے جائیں اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ڈاکٹر یاسمین قاضی نے کہا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ناگزیر ہے۔ معروف سماجی رہنما شہزاد رائے نے تعلیمی اداروں اور نصاب میں تولیدی صحت اور آگاہی کے موضوعات شامل کرنے پر زور دیا۔’’گریٹ ڈیبیٹ وقفہ ‘‘میں ڈاکٹر طالب لاشاری،ڈاکٹر انیلا درانی، خواجہ عمران نذیر، خلیق الرحمن اور زیبا ستار نے بھی اظہار خیال کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آبادی کے انتظام سے متعلق طویل عرصے سے جاری تعطل کا شکار قومی مکالمہ شاید اتوار کی شب ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگیا، جب جیو نیوز کے “گریٹ ڈیبیٹ” کے پلیٹ فارم پر ملک کی اہم ترین شخصیات ایک ساتھ جمع ہوئیں اور جس اتفاقِ رائے کے ساتھ انہوں نے گفتگو کی، اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر صحت و آبادی مصطفیٰ کمال نے وفاقی حکومت کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی کی۔ صوبوں کی جانب سے پنجاب سے عمران نذیر، سندھ سے ڈاکٹر طالب لاشاری (ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی نمائندگی) اور خیبرپختونخوا سے خلیق الرحمن اور ڈاکٹر انیلا درانی شریک ہوئے۔ان کے ساتھ ملک کے چند ممتاز ترین ماہرین بھی موجود تھے، جن میں آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی، پاپولیشن کونسل پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر زیبا ستار اور کیو زیڈ کنسلٹنٹس کی سی ای او ڈاکٹر یاسمین قاضی شامل تھیں، جبکہ ممتاز مذہبی اسکالرز کے بیانات بھی اس مباحثے کا حصہ بنے۔ یہ مباحثہ میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن کی ملک گیر ’’وقفہ‘‘ مہم کے تحت نشر کیا گیا، جو خاندانی منصوبہ بندی، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے اور آبادی کے انتظام سے متعلق قومی شعور اجاگر کرنے کے لئے جاری ہے۔ اس پلیٹ فارم پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی، اور ان کا تقریباً مکمل اتفاقِ رائے اس مباحثے کو غیرمعمولی بنایا گیا۔میزبان شہزاد اقبال نے گفتگو کے آغاز میں ایسے اعداد و شمار پیش کئے جو نہایت تشویشناک تھے۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً 2.55 فیصد ہے جو عالمی اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ مقررین نے اس شرح کو صرف خطرناک نہیں بلکہ ناقابلِ برداشت قرار دیا، اور خبردار کیا کہ یہ معیشت، صحت، تعلیم، روزگار، آبی وسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت سمیت قومی زندگی کے ہر شعبے پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ ماہرین نے تیز رفتار اور بے قابو آبادی میں اضافے کو “Threat Multiplier” یعنی ایسا عنصر قرار دیا جو دیگر تمام بحرانوں کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔شاید سب سے زیادہ متاثر کن پہلو ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود انسانی المیہ تھا۔ بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے تقریباً ایک حمل غیر مطلوب ہوتا ہے۔ لاکھوں جوڑے بچوں کی پیدائش میں وقفہ چاہتے ہیں، مگر مانع حمل ادویات اور سہولتوں کی عدم دستیابی، ان کی بلند قیمت، غلط معلومات اور ناکافی مشاورت کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔ وفاقی وزیر صحت و آبادی مصطفیٰ کمال نے نہایت دوٹوک انداز میں آبادی کے انتظام کو ’’پاکستان کی بقا کا ہدف‘‘ قرار دیا ایک ایسا بیان جس سے واضح ہوا کہ وفاقی حکومت اب اس مسئلے کو کس سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے دورانِ زچگی تقریباً 11 ہزار ماؤں کی سالانہ اموات پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ہر گھنٹے ایک ماں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت 82 فیصد وسائل صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنا ایک ایسا نظام ہے جو آبادی میں کمی کے بجائے اضافے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ’’بطور ملک، بطور معاشرہ، ہمیں بدلنا ہوگا۔‘‘ ایمان، طب اور ماں کی صحت مباحثے کا ایک نہایت اہم اور شاید سب سے مؤثر پہلو یہ تھا کہ پاکستان کے مذہبی اسکالرز نے بچوں کی پیدائش میں وقفے کی کھل کر اور واضح انداز میں حمایت کی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خاندانی منصوبہ بندی کو اکثر مذہبی غلط فہمیوں یا دانستہ پروپیگنڈے کا سامنا رہا ہے، علما کا یہ مؤقف غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام نے واضح کیا کہ ’’وقفہ‘‘ اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ قرآنِ مجید میں ماؤں کو تیس ماہ تک بچوں کو دودھ پلانے کی تلقین کی گئی ہے، جو قدرتی طور پر بچوں کی پیدائش میں وقفہ پیدا کرتی ہے اور ماں کی صحت کے تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین قاضی نے طبی نقطۂ نظر سے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد ایک عورت کے جسم کو مکمل بحالی کے لئے تقریباً چوبیس ماہ درکار ہوتے ہیں۔ اگر اس مدت سے پہلے حمل ٹھہر جائے تو ماں اور بچے دونوں کے لئے خطرات بڑھ جاتے ہیں حالانکہ یہ خطرات مکمل طور پر روکے جا سکتے ہیں۔ شرکاء نے قرآن کی رہنمائی، ماں کی صحت اور جدید طبی سائنس کے درمیان اس ہم آہنگی کو نہایت اہم اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایسے معاشروں میں عوامی سوچ بدلنے میں مدد مل سکتی ہے جہاں مذہبی مؤقف حکومتی مہمات سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ وزیر صحت و آبادی پنجاب عمران نذیر (جو خصوصی طور پر لاہور سے اس مباحثے میں شرکت کیلئے کراچی آئے تھے)نے پنجاب حکومت کے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے احتیاطی صحت اور علاج کو الگ کیا ہے، مانع حمل ادویات کی بڑے پیمانے پر خریداری کی جا رہی ہے، اور صحت کی سہولتوں کو گھر گھر پہنچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اس وقت خاصی پذیرائی ملی جب انہوں نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی فوری حمایت کی، حالانکہ پنجاب سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہونے کے باعث سب سے زیادہ وسائل حاصل کرتا ہے۔ فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ شرکاء نے بار بار اس امر پر زور دیا کہ آبادی میں استحکام کے لئے سب سے مؤثر طویل المدتی حل لڑکیوں کی تعلیم، کم عمری کی شادیوں میں کمی، اور خواتین کو قومی معاشی زندگی میں فعال کردار دینے میں پوشیدہ ہے۔ آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو صرف 24 برس میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ لڑکیوں کو اسکول اور کالج تک تعلیم دلانا ہی وہ سادہ مگر طاقتور فارمولا ہے جو شادیوں میں تاخیر، خواتین کو بااختیار بنانے اور آبادی میں استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ سندھ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر طالب لاشاری نے بھی لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی بھرپور حمایت کی۔ پاپولیشن کونسل پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر زیبا ستار نے آبادی کے بحران، ماضی کی کوششوں اور موجودہ اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی، جن کے ذریعے قومی اتفاقِ رائے اور دیرپا حل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ معروف سماجی کارکن شہزاد رائے نے تجویز پیش کی کہ شادی سے قبل جوڑوں کے لئے تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ایک آن لائن ڈیجیٹل کورس لازمی قرار دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کورس امان آرگنائزیشن نے تیار کیا ہے اور NADRA بھی اس عمل میں تعاون کے لئے تیار ہے۔نکاح کی رجسٹریشن اس وقت ہونی چاہئے جب جوڑا یہ کورس مکمل کر لے تاکہ انہیں شادی، صحت، والدین کی ذمہ داریوں اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بنیادی آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ شادی شدہ مرد بھی کنڈوم خریدتے وقت جھجک محسوس کرتے ہیں، جو اس موضوع پر سماجی خاموشی اور شرمندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہزاد رائے نے تعلیمی اداروں اور نصاب میں تولیدی صحت اور آگاہی کے موضوعات شامل کرنے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وسائل کی تقسیم کے نظام میں موجود ایک بنیادی خرابی پر نہ صرف بات کی بلکہ اصلاح کا عندیہ بھی دیا۔موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں تقریباً 82 فیصد وزن آبادی کی بنیاد پر رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبوں کو زیادہ آبادی رکھنے پر مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔محمد اورنگزیب نے آبادی کے انتظام کو “Mission Critical” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس معاملے پر ورلڈ بینک کے ساتھ فعال مذاکرات کر رہی ہے۔ انہوں نے صوبوں کے اتفاقِ رائے کو “میرے کانوں کے لئے موسیقی” قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وسائل کی تقسیم کے لئے ایسا نیا اور مؤثر فارمولا تیار کیا جا سکتا ہے جو انسانی ترقی کو اہمیت دے اور آبادی میں کمی لانے والے صوبوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ پنجاب اور سندھ کے وزراء نے بھی اس بڑی تبدیلی کی فوری حمایت کی۔ مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں نہ صرف ان پر ٹیکس میں ریلیف دیا جائے گا بلکہ ان کی مقامی پیداوار کو بھی فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے ساتھ دو بڑے موضوعات موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں استحکام پر تفصیلی مذاکرات جاری ہیں، اور دس سالہ ’’کنٹری پارٹنرشپ پروگرام‘‘ کے تحت آبادی سے متعلق اصلاحات اور مراعات کے لئے 60 سے 70 کروڑ ڈالر فراہم کئے جائیں گے۔محمد اورنگزیب نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان منصوبوں پر ان کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہاں ہیں۔شرکاء اس امید کے ساتھ واپس لوٹے کہ آئندہ بجٹ میں وسائل کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات، انسانی ترقی کے اشاریوں کو شامل کرنے، اور آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کم کرنے جیسے اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے آبادی سے متعلق پالیسی ڈھانچے میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی اصلاح تصور کی جائے گی۔اسی طرح اس بات پر بھی مکمل اتفاقِ رائے پایا گیا کہ مانع حمل ادویات کو محض تجارتی اشیا نہیں بلکہ ماں کی صحت اور آبادی میں استحکام کے لئے ضروری عوامی صحت کے آلات سمجھا جانا چاہئے اور اسی لئے ان پر ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر صحت خیبر پختونخوا، خلیق الرحمن نے ”وقفہ“مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں توازن کا تصور عام کرنا ناگزیر ہے۔ صوبائی حکومت 2030 ء تک آبادی میں اضافے کی شرح کو 1.7 فیصد تک لانے کا ہدف رکھتی ہے اور اس مقصد کے لئے مفت مانع حمل سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ شرکاء نے ’’وقفہ‘‘ مہم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا، جو میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن نے پاپولیشن کونسل پاکستان کے اشتراک اور برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے تعاون سے شروع کی ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس مہم کی غیرمعمولی رسائی اور قومی سطح پر موجودگی نے ہی ایسے کھلے، سنجیدہ اور اعلیٰ سطح مکالمے کے لئے فضا ہموار کی، جیسا کہ اتوار کی شب دیکھنے میں آیا۔

اہم خبریں سے مزید