اسلام آباد (رانا غلام قادر) چین کے صدر شی جن پنگ سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کی، اس موقع پر صدر شی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں، ہمسایوں کیساتھ سفارتکاری میں پاکستان سے تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں،جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی امن، استحکام و خوشحالی کیلئے طاقتور قوت رہے گی، وزیراعظم نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے چین کے صدر شی جنگ پنگ کے 4نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نازک مرحلے سے گز ر رہی ہے ، امن اورکاروبار کی بحالی کیلئے ملکر کام کرنا ہوگا، وزیراعظم نے چین کے وزیراعظم عزت مآب لی چیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان-چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، اسٹریٹجک، سیکورٹی اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز بیجنگ میں چین کے صدر شی جنپنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ وزراء اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر انکا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان۔چین دیرینہ اسٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی تناظر میں دونوں ممالک کی آہنی دوستی کی اسٹرٹیجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات، خصوصاً ’’ون چائنا پالیسی‘‘ پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کی جراتمندانہ اور دوراندیش قیادت کی بھی تعریف کی، جس نے چین کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اسٹرٹیجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے، سی پیک کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے اور چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کو ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام سے ہم آہنگ کیا جائے۔ تاکہ صنعتکاری، باہمی روابط، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، قابل تجدید و صاف توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں وسیع تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد، تفہیم اور تعاون پر مبنی “ناقابلِ شکست روایتی دوستی” قائم کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین اپنی ہمسایہ پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان۔چین دوستی کی تاریخی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے 75ویں سالگرہ کو اسٹریٹجک، عملی اور مستقبل پر مبنی تعاون کے ایک نئے دور میں تبدیل کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں پیرکو یہاں اپنے اعزاز میں عظیم عوامی ہال میں منعقدہ پروقار استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نازک مرحلے سے گز ر رہی ہے ، امن اورکاروبار کی بحالی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، چین نے پاکستان کی امن اور جنگ بند ی کیلئے کوششوں کی بھرپور حمایت کی،معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے چین کے برادر عوام سے صوبہ شانشی کی کوئلے کی کان میں دھماکے پر تعزیت کا اظہار کیا جسکے نتیجے میں قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔