• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محسن نقوی خفیہ ملاقات کا محور عمران تک رسائی اور سیاسی تناؤ میں کمی تھا

انصار عباسی

اسلام آباد :…خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان حالیہ ملاقات نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے اور اس ملاقات کی نوعیت اور مقصد سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ تاہم، اس پیش رفت سے آگاہ باخبر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ رواں ماہ کی 14؍ تاریخ کو اسلام آباد میں بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ پر ہونے والی یہ ملاقات صرف دہشت گردی اور سکیورٹی امور پر بات چیت تک محدود نہیں تھی، جیسا کہ بعض سرکاری بیانات میں تاثر دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گوہر کی رہائش گاہ اس سے قبل بھی حساس اعلیٰ سطحی رابطوں کا مرکز رہی ہے اور اسے پی ٹی آئی اور متعلقہ حکام کے درمیان غیر رسمی رابطے کیلئے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ملاقات میں اگرچہ بگڑتی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے، تاہم ذرائع کہتے ہیں کہ سیاسی معاملات گفتگو کا ایک اہم حصہ تھے۔ بات چیت میں خصوصی طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے متعلق امور، بشمول ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنمائوں کو جیل میں ملاقات کی بہتر سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی گئی۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر گفتگو صرف سکیورٹی معاملات تک محدود ہوتی تو یہ مقام ہوتا اور نہ یہ شرکاء ہوتے۔ اندرونی ذرائع اس ملاقات کو جاری پسِ پردہ رابطوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں جن کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا اور فریقین کے درمیان وسیع تر مفاہمت کیلئے فضا ہموار کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر مسلسل پابندیاں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر سکتی ہیں۔ گفتگو میں مبینہ طور پر طبی سہولتوں اور دیگر انسانی بنیادوں پر درپیش مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ اسی دوران حکام کی جانب سے بھی تحفظات اور ’’سرخ لکیریں‘‘ (ریڈ لائنز) واضح کی گئیں، خصوصاً وہ سوالات جو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے سیاسی طرزِ عمل پر اٹھائے گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ذرائع نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ ملاقات کسی دبائو کے تحت یا زبردستی ہوئی۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کو ان مذاکرات میں آنے پر مجبور کیا گیا اور نہ ہی بیرسٹر گوہر یا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پر کوئی دبائو ڈالا گیا۔ مقصد صرف باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنا اور ماحول بہتر بنانا تھا۔ اندرونی ذرائع کے مطابق اس رابطے کا وسیع تر مقصد دونوں جانب کے خدشات کا حل تلاش کرنا ہے، جن میں ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کے تحفظات اور دوسری جانب عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی قیادت سے متعلق مسائل شامل ہیں، تاکہ سیاسی درجۂ حرارت کو کم کیا جا سکے اور مزید محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر علیمہ خانم کے اس معاملے پر بیان نے ان پسِ پردہ مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ذریعے نے کہا کہ اس سے عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کے زیرِ غور امکان کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

اہم خبریں سے مزید