• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کی تجویز، پاکستان اور سعودی عرب کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک خاموش

کراچی (نیوز ڈیسک) ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی امریکی صدر کی خواہش پر پاکستان اور سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک خاموش ہیں ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم ممالک کو ایک بار پھر ’ابراہیمی معاہدے‘ (Abraham Accords) کا حصہ بننے کی خواہش کے اظہار پر مسلم دنیا سے صرف پاکستان اور سعودی عرب کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ تجویز پر عالمی میڈیا سے بچت چل پڑی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ابراہیمی کو ایران کے ساتھ معاہدے سے منسلک کرنا معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا حصہ ہے۔ جبکہ کچھ تجزیہ کار اسے دنیا میں امن کی جانب بڑا قدم کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ غزہ جنگ سے پہلے بھی صدر ٹرمپ کی اس تجویز پر عالمی میڈیا میں بحث چلتی رہی اور اس کے حق اور مخالفت میں دلائل دیئے گئے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ معاہدہ ابراہیمی سے مشرق وسطی میں امن آئے گا جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ قابل عمل نہیں۔ واضح رہے کہ غزہ کے المناک سانحے سے قبل، صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں 2020ء میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان صلح اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک تصور سامنے لایا گیا تھا جسے ʼمعاہدہ ابراہیمی کا نام دیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید