• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابراہام اکارڈز کیا ہے؟ کب ہوا؟ کون فریق ؟ کون ثالث؟

کراچی ( جنگ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورصدارت کے دوران امریکا نے فلسطین کا تنازع طے کرائے بغیر اسرائیل اور عرب ممالک بالخصوص اور مسلم ممالک بالعموم کے تعلقات اسرائیل سے نارمل کرنے کیلیے سخت جدوجہد کی اور معاہدوں کے ایک سلسلے کی ثالثی کی۔ ان معاہدے کا اعلان اگست اور ستمبر 2020کے درمیانی عرصے میں کیاگیا اور 15ستمبر 2020کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی آدر ٹرمپ کی ثالثی میں اس دستاویز پر دستخط کیے گئےجسے تینوں ابراہیمی مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے علامتی اشتراک کی غرض سے ابراہام اکارڈز ( میثاق براہیم) کا نام دیا گیا۔ آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ہوا۔ بعد میں مراکش، سوڈان ،قازقستان شامل ہوئے، اسرائیل نے توسیع دیتے ہوئے صومالی لینڈ کو بھی شامل کرلیا۔ اس معاہدے میں ٹرمپ کو اپنی بیٹی ایوانیکا کے یہودی صیہونی شوہر جیرڈ کرشنر اور دیگر امریکی عیسائی صیہونیوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی تھی ۔ ٹرمپ اس سے پہلے ہی مسلم دنیا کے مقابل اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں اس وقت ڈال چکا تھا جب اس نے صدر بنتے ہی امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا اور یوں غیررسمی طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرکے فلسطینی دعوے کو عملاً ےیکسر رد کردیا۔

اہم خبریں سے مزید