ملتان (سٹاف رپورٹر) صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ پر پورے سال کا انحصار ہوتا ہے اور اس وقت تمام طبقات کی نظریں وفاقی بجٹ پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے بعد پاکستان سے دنیا کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان دفاعی بجٹ پر کتنا خرچ کر رہا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک اپنے دفاع پر کتنی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ 832 بلین ڈالر جبکہ بھارت پاکستان سے 12 گنا زیادہ دفاعی اخراجات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بھی پاکستان سے زیادہ دفاع پر خرچ کرتا ہے اور دنیا بھر میں جنگی صورتحال کے باعث دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ثالثی بہادروں کے پاس آتی ہے” اور رافیل طیارہ گرانے کے بعد دنیا کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افواج نے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت میں اضافہ کیا اور پاکستان کا دفاعی نظام پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ صدر پاکستان کسان اتحاد نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ریسرچ پر پاکستان کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دودھ کی پیداوار میں دنیا میں چوتھے، شوگر کین میں پانچویں جبکہ کینو کی پیداوار میں پہلے نمبر پر آتا ہے، اس کے باوجود زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔