• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، جناح اسپتال کے باتھ روم میں بچے کی پیدائش

کراچی (بابر علی اعوان) جناح اسپتال کراچی کے باتھ روم میں بچے کی پیدائش، اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹروں کی غفلت اور عدم توجہ کے باعث چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا،افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر خاتون کے بیان اور واش روم کی ویڈیوز وائرل ہوگئی، جبکہ ترجمان جناح اسپتال نے واقعے کوبے بنیاد قرار دیدیتے کہا ہے کہ تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابقجناح اسپتال کراچی میں خاتون مریضہ نے مبینہ طور پر گائنی وارڈ کے واش روم میں بچے کو جنم دیا۔ خاتون اور اسکے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی غفلت اور عدم توجہ کے باعث چار گھنٹے انتظار کے بعد واش روم میں بچے کو جنم دیا اور اس دوران گھر کی خواتین نے انکی مدد کی۔ اس حوالے سے دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ ایک میں خاتون مریضہ واقعہ بیان کر رہی ہیں جبکہ دوسری ویڈیو میں اس واش روم کو دکھایا جا رہا ہے جہاں بچے کی ولادت ہوئی جس پر اسپتال انتظامیہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون کی ڈلیوری لیبر روم میں ہوئی، واش روم میں بچے کی پیدائش کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان جے پی ایم سی کے مطابق مریضہ مسمات نادیہ زوجہ اکرم کو گائنی ایمرجنسی آمد پر ڈیوٹی ڈاکٹروں نے فوری طور پر اٹینڈ کیا اور ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ کلینیکل اسیسمنٹ کے بعد طبی ٹیم نے مریضہ کی صحت کے بہترین مفاد میں نارمل ڈیلیوری کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد رات 2 بج کر 50 منٹ پر لیبر روم کے اندر ایک صحت مند بچے کی ولادت ہوئی۔ واش روم میں ڈیلیوری سے متعلق دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، اسپتال اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ معائنے کے دوران مریضہ میں کچھ ہائی رسک طبی پیچیدگیاں، بشمول پلیٹلیٹس کی کمی اور دیگر غیر معمولی لیبارٹری پیرامیٹرز پائے گئے تھے، جسکے باعث انہیں سخت طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں لواحقین مریضہ کو طبی مشورے کے برعکس خود ہی اسپتال سے لے گئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ٹیم رات بھر انتہائی متحرک تھی اور متعدد دیگر تشویش ناک کیسز بشمول سیزیرین سیکشنز اور بلڈ ٹرانسفیوژن کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی ہدایت پر واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے اور حقائق کا تعین کرنے کیلئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی سفارشات کی روشنی میں اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید