اسلام آ باد ( رانا غلام قادر )یکم جولائی سےشروع ہونیوالےآئندہ مالی سال دوہزار چھبیس، ستائیس (2026..27)کے وفاقی بجٹ کے لیے تیاریاں جاری ہیں-قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس تین جون کو بلانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں آئندہ مالی سال کےلیےاہم بجٹ تجاویز اوراہداف کی منظوری دی جائےگی،قومی اقتصادی کونسل کے ارکان میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلی بھی شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نئے مالی سال کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دےگی،قومی اقتصادی کونسل نئےمالی سال کےاہم معاشی اہداف کی منظوری بھی دے گی-ذرائع کےمطابق آئندہ مالی سال کے لیے وزارت خزانہ نے وفاقی ترقیاتی بجٹ کی حد 1126 ارب روپے تجویز کی ہےتاہم آئندہ مالی سال کے لیےوزارت منصوبہ بندی نے 2900 ارب روپے فراہم کرنےکی درخواست کی تھی جبکہ وزارتوں اور ڈویژنز نے 4 ہزار ارب روپے مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا،ہر صوبے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام الگ سے مختص ہوگا،آئندہ مالی سال کے لیے وفاق اورصوبوں کو ملاکرمجموعی یعنی قومی ترقیاتی بجٹ ساڑھے3 ہزار ارب روپے سے 4ہزار ارب روپے کے درمیان یا اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے-ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں نئےمالی سال کے معاشی شرح نمو کے ہدف کا جائزہ لیا جائے گا،آئندہ مالی سال کےلیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4فیصد یااس سےزیادہ مقررکیاجاسکتا ہے،اجلاس میں نئےمالی سال کے لیےزرعی،صنعتی اورخدمات شعبوں کےاہداف کاتعین کیا جائےگا۔ذرائع کے مطابق اے پی سی سی میں آئندہ مالی سال کے لیے مہنگائی کا ہدف بھی تجویز کیا جائے گا،آئندہ مالی سال کے اوسط مہنگائی کا ہدف 8 اعشاریہ 2سے 8اعشاریہ 6 فیصد کے درمیان ہوسکتا ہے۔