اسلام آباد(رپورٹ:،رانامسعود حسین) حکومتی ذرائع نے پاکستان پر کابل میں انسدادِ منشیات کے ایک مرکز پر حملے کا ایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام یکسر اور قطعا ناقابلِ قبول قراردیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے اور قراردیاہے کہ ایمنسٹی کی رپورٹ محض ایک طرفہ موقف اور وکالت پر مبنی نتائج پر مشتمل ہے، نہ کہ کوئی عدالتی فیصلہ ہے،پاکستان اس سلسلے میں،عملی طور پر ممکنہ ڈی کلاسیفائیڈ(غیر خفیہ)شواہد جاری کرے گا اورسرحد پار دہشت گردی کا شکار ہونے والے پاکستانیوں کے مقدمات کو سامنے لائے گا،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کو پاکستان کی سیکیورٹی، ٹارگٹنگ کے عمل یا خفیہ خطرات کی انٹیلی جنس معلومات تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے، حملے کے بعد کی چند تصاویر میں ہتھیاروں کا نظر نہ آنا اس بات کا حتمی ثبوت نہیںہے کہ عمارت کا کوئی عسکری مقصد نہیں تھا، خاص طور پر جبکہ وہ بارودی مواد کا ایک ذخیرہ گاہ (اسٹوریج فیسلٹی)تھی،پاکستان کا باضابطہ موقف بالکل واضح ہے کہ کسی بھی ہسپتال یا بحالی سینٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیاہے،یہ کارروائیاں صرف عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کی گئی ہیں، جن میں تکنیکی سہولیات، گولہ بارود کا ذخیرہ، ڈرون سے متعلق آلات اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو فراہم کردہ بنیادی سہولیات شامل ہیں، پاکستان نے کارروائی کے دوران جدید اور ہدف پر درست نشانہ باندھنے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔