• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اماراتی حلقوں کی جانب سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کی پرزور تردید

دبئی ( سبط عارف )اماراتی حلقوں کی جانب سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کی پرزور تردید ، کارروائی “ رنگ و نسل و مسلک و مذہب “ کے بجائے قانون کے مطابق ہوتی ہے ، اماراتی مبصرین،ناانصافی ہوئی تو حقیقی متاثرین کے نام اور حقائق سامنے لائے جائیں، اماراتی مبصرین کا چیلنج، متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلیوں سے متعلق بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں تاہم اماراتی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا البتہ متحدہ عرب امارات کے حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض اماراتی سوشل میڈیا مبصرین اور تجزیہ کاروں نے رپورٹ میں فرقہ وارانہ پہلو کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں قوانین اور سکیورٹی ضوابط سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ بھی واضح کرچکی ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کے خلاف کارروائی ہوئی تو اس کا تعلق متحدہ عرب امارات قوانین، ویزا شرائط یا سکیورٹی معاملات سے ہوسکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عرب امارات میں مذہبی یا مسلکی بنیادوں پر “ قانونی کارروائی “ کرنا نا ممکن ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جو مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات دراصل پاکستان کے اہم معاشی اور سفارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں میں کہا گیا کہ عرب امارات کئی دہائیوں سے مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو محفوظ ماحول فراہم کررہا ہے جہاں قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔بعض مبصرین نے یہ بھی مطالبہ کیا بلکہ چیلنج کیا کہ اگر کسی فرد کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں تاکہ حقائق کا مکمل جائزہ لیا جاسکے۔

اہم خبریں سے مزید