• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرفراز لائے کھلاڑی اچھا، غازی غوری کو پرچی کہنا نامناسب، راشد لطیف

کراچی (عبدالماجد بھٹی) آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے انٹر نیشنل میں وکٹ کیپر غازی غور ی نے 92 گیندوں پر 65 رنز بنائے اور بابر اعظم کے ساتھ میچ وننگ127رنز کی شراکت قائم کی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ غازی کو سرفراز لایا ہے ، وہ اچھا کھلاڑی ہے۔ غازی کو پرچی کہنا نامناسب ہے ، حسیب اللہ، روحیل نذیر اور سعد بیگ میں سے کسی کو موقع ملنا چاہیے تھا، ایک میچ کے بعد کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ وہ چوتھے نمبر پر مستقل ایسی ہی کارکردگی دکھاکر اپنے ناقدین کو غلط ثابت کریں گے۔ غازی نے چوتھے نمبر پر پہلی نصف سنچری بنائی، یہ وہ نمبر ہے جس پر عظیم جاوید میاں داد، یونس خان، سلیم ملک، محمد یوسف اور انضمام الحق کھیلا کرتے تھے۔ لیفٹ آرم اسپنر عرفات منہاس نے بہت اچھی بولنگ کی ہے۔ اتوار کو جنگ کو انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ اگر غازی غوری تین میچوں میں تین پچاس بھی کردے تو میں اپنی رائے محفوظ رکھوں گا ، چار نمبر پر بیٹنگ کرکے وکٹ کیپنگ کرنا آسان نہیں ہے ، میں چاہتا ہوں کہ غازی غوری ہمیں غلط ثابت کریں اگر وہ ایسا کر گئے تو ہمیں ایک اور میاں داد مل سکتا ہے ۔ ہم دو سال سے کہتے رہے کہ محمد رضوان چار نمبر پر غلط کھیل رہا ہے حالانکہ وہ بیٹنگ میں ٹاپ کرتا رہا۔ یہی کہا جاتا جاتا رہا کہ سلمان علی آغا کو چوتھے نمبر پر کھلایا جائے ۔ پہلے ون ڈے میں اوپن چانس تھا لیکن ہم نے غازی کو چوتھے نمبر پر بھیج دیا۔ یہ کہہ دینا کہ یہی کمبی نیشن ورلڈ کپ میں کھیلے گا درست نہیں ہے۔ ڈیڈ پچوں پر مختا ر احمد نے شروع کے میچوں میں کارکردگی دکھائی لیکن وہ منظر سے غائب ہوگیا۔ اسی طرح بہت سارے کھلاڑی ایسے آئے جنہوں نے ہوم گرائونڈ پر کارکردگی دکھائی اور ملک سے باہر مشکل میں آگئے۔ عبداللہ شفیق پاکستان میں کارکردگی دکھا کر بیرون ملک مشکلات میں رہا۔ انہوں نے کہا کہ صائم ایوب بھی بیرون ملک نہیں دکھاسکا۔ راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم میں روحیل نذیر کی کپتانی میں جو کھلاڑی کھیلے ان میں وہاب ریاض کے علاوہ عبداللہ شفیق، حیدر علی، حُسین طلعت ، خوشدل شاہ ، دانش عزیز عماد بٹ ، محمد حسنین ، عثمان قادر اور حارث رؤف شامل تھے ۔ روحیل ایک روزہ اور ٹیسٹ میں وہ بہتر کھیل سکتا تھا لیکن اس کو مواقع نہیں ملے۔ عرفات منہاس کو آسٹریلوی سیریز کے لئے منتخب کیا گیا تھا اس ٹیم میں ابرار احمد ، فیصل اکرم اور سفیان مقیم بھی شامل تھے ۔ عرفات کا ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی میں ہوا اور اسکے بعد فیصل اکرم اور عرفات منہاس کو واپس بھیج دیا گیا تھا اور دونوں کو ڈومیسٹک کے چیمپئنز کپ کے ایک میچ سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا ۔ حسیب اللہ نے لسٹ اے میں بہت زیادہ کارکردگی دکھائی تھی لیکن چند ایک میچز کھلانے کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔ روحیل نذیر اور حسیب اللہ دونوں 2024 ، 2025، 2026 آئی سی سی کے کسی بھی ایونٹ میں شامل نہیں ہوئے، جہاں پاکستان ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

اسپورٹس سے مزید