حیدرآباد (بیورو رپورٹ) ضلع انتظامیہ کے احکامات نظر انداز،حیدرآباد میں فلور ملز اور چکی مالکان فی کلو آٹے پر اضافی وصولی کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے سبسڈی شدہ گندم فراہم کیے جانے کے باوجود فلور ملز اور چکی مالکان مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے لگے ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فلور ملز اور چکی مالکان کو سبسڈی شدہ گندم فراہم کی تھی اور فی کلو آٹے کی قیمت 115 روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں اس نرخ پر آٹا دستیاب نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق 5 کلو آٹے کا تھیلا 640 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو سرکاری نرخ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اسی طرح اوپن مارکیٹ میں آٹا 140 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، ایسے میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہے، جس کے باعث منافع خور عناصر کھلے عام عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔