ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان روڈ 17کسی کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے جہانیاں کے نوجوان محمد آفتاب کے ورثا نے پولیس اور نشتر ہسپتال ملتان کے فورنزک ڈیپارٹمنٹ کے عملے کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کر دی ہے ،لواحقین کے مطابق اتوار کی صبح والدہ کی دوائی لینے کے لئے جانے والے محمد آفتاب 17 کسی کے قریب تیز رفتار ٹرالی کی ٹکر سے جاں بحق ہوگیا، جبکہ اس کی بہن کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور والدہ بھی زخمی ہوئیں،ورثا کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ریسکیو 1122 نے زخمیوں کو منتقل کیا، تاہم پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود دو گھنٹے سے زائد انتظار کے باوجود کوئی اہلکار موقع پر نہ پہنچا، جس پر وہ نجی ایمبولینس کے ذریعے میت اپنے گھر لے آئے اور غسل و کفن دفن کی تیاری شروع کر دی،لواحقین کا الزام ہے کہ بعد ازاں تھانہ مخدوم رشید کے ایس ایچ اور ایک اے ایس آئی اور دیگر اہلکار گھر پہنچے اور میت گھر لانے پر انہیں سخت لہجے میں مخاطب کیا، دھمکیاں دیں اور قانونی کارروائی کی بات کی،ورثا کے مطابق انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ جائے حادثہ پرکافی دیر تک انتظار کرتے رہے تھے لیکن کوئی اہلکار نہیں پہنچا تھا،لواحقین کے مطابق انہوں نے پولیس افسران سے کہا کہ انہیں قانون کا علم نہیں ،لیکن اگرپوسٹ مارٹم ضروری ہے ،تو قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کرا لیا جائے، تاہم پولیس میت کولے کر تھانے اورپھروہاں سے نشتر ہسپتال ملتان کے فورنزک ڈیپارٹمنٹ لے گئی، جہاں دوپہر تقریباً ایک بجے میت کو ایک کمرے میں رکھ کر تالا لگا دیا گیا اور متعلقہ عملہ وہاں سے چلا گیا،لواحقین کا کہنا ہے کہ ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے وہ شدید گرمی میں کئی گھنٹے انتظار کرتے رہے، بار بار رابطہ کرنے پر انہیں یہی جواب دیا جاتا رہا کہ ڈاکٹر آ رہے ہیں، مگر شام تک کوئی ڈاکٹر نہ پہنچا، ان کے مطابق انہوں نے ڈی ایس پی جہانیاں سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے متعلقہ ڈاکٹر کو فون کیا، لیکن پھر بھی کارروائی شروع نہ ہو سکی۔ متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ شام ساڑھے سات بجے کے قریب پولیس اے ایس آئی اورفورنزک ڈیپارٹمنٹ کے ملازم نے پوسٹ مارٹم اور میت کی حوالگی کے لئےبھاری رقم کا مطالبہ کیا، محمد آفتاب کے بھائی کے مطابق ان کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہ تھی، جس پر ان کے پرس میں موجود ہزاروں روپے کی نقدی لے لی گئی اور بعد ازاں میت ان کے حوالے کر دی گئی،لواحقین کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کیا ہی نہیں گیا اور انہیں وہاں سے روانہ کر دیا گیا۔