لاہور (نیوز ایجنسی) لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی تنگی بھی باپ کی اپنے نابالغ بچے کے نان نفقہ کی ذمہ داری ختم نہیں کر سکتی، باپ پر اپنے نابالغ بچے کا نان نفقہ مستقل جاری رہنے والا الٰہی فریضہ ہے اور قرآن و سنت کے احکامات کے تحت وہ اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔فیملی اور اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے باپ کی پٹیشن خارج،15صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے مطابق کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کے نان نفقہ کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا جبکہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ عدالتی فیصلے میں سورہ البقرہ، سورہ الطلاق اور احادیثِ نبوی کے حوالے بھی شامل کیے گئے ہیں۔