اسلام آباد ( خالد مصطفیٰ ) وفاقی وزیر خوراک و زرعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ کپاس کی بحالی کا روڈمیپ تیار کرلیا گیا ہے،امتیازی ٹیکس ختم کردیا ہے، بیجوں پرتوجہ ہے اور حکومت نے ہائبرڈبیجوں کی درآمد کی منظوری دے دی ہے کیونکہ ہم کپاس کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور اسکی پیداوار میں کمی کا رحجان روکنے کیلئے اصلاحات پرعمل کررہے ہیں۔ نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کپاس کی پیداوار میں رکاوٹ بننے والے تکنیکی اور ضوابطی مسائل پرکام کررہی ہے،قومی بیج پالیسی کی منظوری اہم پیشرفت ہے، وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار جنگ/دی نیوز سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔واضح رہے کہ پاکستان کی کپاس جسے کبھی ملک کا ’’سفید سونا‘‘ کہا جاتا تھا اپنی چمک کھو چکا ہےاور وہ فصل جو ٹیکسٹائل برآمدات کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، گزشتہ پندرہ برسوں میں شدید زوال کا شکار ہو گئی ہے۔2011*12-یں پاکستان میں تقریباً 28 لاکھ 61 ہزار ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت کی جاتی تھی اور پیداوار ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس وقت فی ہیکٹر پیداوار 880 کلوگرام تھی اور پاکستان بڑی حد تک کپاس میں خود کفیل سمجھا جاتا تھا۔ تاہم 2025-26 تک کپاس کا زیر کاشت رقبہ کم ہو کر 17 لاکھ 77 ہزار ہیکٹر رہ گیا، یعنی دس لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ اس فصل سے نکل گیا۔ اسی عرصے میں پیداوار کم ہو کر صرف 53 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو گئی، جو تقریباً 64 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ فی ہیکٹر پیداوار بھی 880 کلوگرام سے گر کر 507 کلوگرام رہ گئی ہے۔ اس شعبے کی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ملک کو اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ اسی سنگین صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے کپاس کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے اور اسے ملکی معیشت، برآمدات اور دیہی روزگار کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے مطابق شعبے کی بحالی کیلیے تفصیلی روڈمیپ تیار کرلیا،امتیازی ٹیکس ختم کردیا، بیجوں پرتوجہ ہے، حکومت کپاس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے اور پیداوار میں مسلسل کمی کے رجحان کو روکنے کے لیے متعدد اصلاحات پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی جس نے صوبائی حکومتوں، زرعی ماہرین، ٹیکسٹائل صنعت اور دیگر متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے بعد کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ مرتب کیا ہے۔حکومت کی توجہ خاص طور پر بیجوں کے نظام کو بہتر بنانے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ وزیر کے مطابق نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ایسے ضابطہ جاتی اور تکنیکی مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے جو برسوں سے کپاس کی پیداوار میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ قومی بیج پالیسی اور قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے ذریعے تحقیق، نجی سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی نئی اقسام کی تیاری کو فروغ ملے گا۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے ہائبرڈ کپاس کے بیج درآمد کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے تاکہ کاشت کار جدید جینیاتی خصوصیات اور نئی پیداواری ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا سکیں۔کاشت کاروں کی شکایات کے بعد وزارت نے کپاس پر نافذ امتیازی ٹیکس نظام بھی ختم کر دیا ہے، کیونکہ اس سے منڈی کا توازن متاثر ہو رہا تھا اور کسانوں کی آمدنی کم ہو رہی تھی۔ اس کے علاوہ آئندہ وفاقی بجٹ میں کپاس کے بیج اور اس سے تیار ہونے والی کھل پر ٹیکس میں کمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو بہتر منافع مل سکے۔حکومت ادارہ جاتی سطح پر بھی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں ضم کر دیا گیا ہے تاکہ تحقیقاتی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا ہو اور وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک صنعت کی قیادت میں چلنے والا کاٹن بورڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے جو کاشت کاروں، محققین اور ٹیکسٹائل صنعت کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے گا۔گرچہ حکومت بحالی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، لیکن سرکاری اعداد و شمار اس شعبے میں آنے والی تباہ کن گراوٹ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ 2011-12 میں پاکستان میں تقریباً 28 لاکھ 61 ہزار ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت کی جاتی تھی اور پیداوار ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھوں سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس وقت فی ہیکٹر پیداوار 880 کلوگرام تھی اور پاکستان بڑی حد تک کپاس میں خود کفیل سمجھا جاتا تھا۔ تاہم 2025-26 تک کپاس کا زیر کاشت رقبہ کم ہو کر 17 لاکھ 77 ہزار ہیکٹر رہ گیا، یعنی دس لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ اس فصل سے نکل گیا۔ اسی عرصے میں پیداوار کم ہو کر صرف 53 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو گئی، جو تقریباً 64 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ فی ہیکٹر پیداوار بھی 880 کلوگرام سے گر کر 507 کلوگرام رہ گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف موسم یا وقتی عوامل کا نہیں بلکہ پورے شعبے میں گہرے ساختیاتی نقائص موجود ہیں۔پنجاب، جو ماضی میں پاکستان کی کپاس کی معیشت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 2011-12 میں صوبے میں 25 لاکھ 34 ہزار ہیکٹر رقبے پر کپاس کاشت ہوتی تھی اور پیداوار ایک کروڑ 21لاکھ گانٹھوں سے زیادہ تھی، لیکن 2025-26 میں یہ رقبہ گھٹ کر 11 لاکھ 71 ہزار ہیکٹر رہ گیا جبکہ پیداوار صرف 25 لاکھ 40 ہزار گانٹھوں تک محدود ہو گئی۔ یوں پنجاب کی کپاس کی پیداوار میں تقریباً 79 فیصد کمی واقع ہوئی۔ فی ہیکٹر پیداوار بھی 814 کلوگرام سے کم ہو کر صرف 368 کلوگرام رہ گئی۔اس کے برعکس سندھ نے نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ 2011-12 میں صوبے میں صرف دو لاکھ 86 ہزار ہیکٹر پر کپاس کاشت کی جاتی تھی اور پیداوار 26لاکھ 82ہزار گانٹھیں تھی، جبکہ 2025-26 تک زیر کاشت رقبہ بڑھ کر چھ لاکھ چھ ہزار ہیکٹر اور پیداوار 28 لاکھ 93 ہزار گانٹھوں تک پہنچ گئی۔