سینئر بھارتی اداکارہ، ٹیلی ویژن میزبان اور کالم نگار پوجا بیدی نے شلپا شندے کی جانب سے جھوٹے جنسی ہراسانی کے مقدمے پر انھیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس کے سنگین نتائج ہونے چاہئیں۔
پوجا بیدی نے شلپا شندے کے اس اعتراف پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے جنسی ہراسانی کا ایک جھوٹا مقدمہ درج کروایا تھا۔
ٹی وی اداکارہ شلپا شندے اس وقت ایک نئے تنازع کا محور بن گئیں جب انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے مشہور ڈرامہ بھابھی جی گھر پر ہیں کے پروڈیوسر سنجے کوہلی کے خلاف جو جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کروایا وہ جھوٹا تھا۔
شلپا نے یہ انکشاف بھارتی سنگھ اور ہرش لمباچیا کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کے اس بیان کے بعد اداکارہ پوجا بیدی اور گلوکار و اداکار کرن اوبرائے نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
56 سالہ پوجا بیدی نے ایک میڈیا ادارے سے گفتگو میں کہا کہ جو بھی خاتون ان قوانین کو، جو متاثرین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، کو انتقام، ذاتی مفاد، دباؤ ڈالنے یا شہرت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے، وہ دراصل اس مقصد سے غداری کرتی ہے جس کے لیے یہ قوانین بنائے گئے تھے۔ جھوٹے الزامات نہ صرف بے گناہ افراد کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں بلکہ حقیقی متاثرین کے لیے بھی انصاف حاصل کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔
گلوکار، اداکار اور مصنف کرن اوبرائے جو ماضی میں خود بھی ایک مبینہ جھوٹے جنسی ہراسانی کے مقدمے کا سامنا کر چکے ہیں اور کئی ماہ جیل میں گزار چکے ہیں، نے بھی شلپا کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹا مقدمہ دراصل مردوں سے زیادہ خواتین کے خلاف ہوتا ہے، کیونکہ اس کا نقصان حقیقی متاثرین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مستقبل میں کسی بھی انتقامی سوچ رکھنے والی عورت کے الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کو جیل نہ جانا پڑے۔
شلپا شندے، جنہیں بھابھی جی گھر پر ہیں کے ذریعے بے پناہ شہرت ملی، نے 2016 میں یہ شو چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے پروڈیوسرز پر ہراسانی اور واجبات کی عدم ادائیگی کے الزامات عائد کیے تھے۔ بعد ازاں یہ تنازع باہمی تصفیے کے ذریعے ختم ہو گیا تھا۔
تاہم حالیہ دنوں میں شِلپا کی جانب سے یہ اعتراف کہ جنسی ہراسانی کی شکایت جھوٹی تھی، اس معاملے کو دوبارہ خبروں کی زینت بنا دیا ہے۔ شلپا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ختم ہو چکا ہے۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں اور مجھے سچ بولنے سے کوئی خوف نہیں۔ میں نے اپنے پروڈیوسر کے خلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ اس لیے درج کروایا کیونکہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ آخرکار معاملہ تصفیے کے ذریعے حل ہو گیا اور میں اس صورتحال سے نکل آئی۔