• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ رہبر اعلیٰ ملاقات کا آئیڈیا مسترد، خلیج عمان میں امریکی جنگی جہازوں پر انتباہی میزائل حملے

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےسپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صدرٹرمپ سے ملاقات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہمجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی منظرعام سے غائب رہنا جنگ کے باعث سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہےجبکہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں دوامریکی جنگی جہازوں پر انتباہی میزائل اور ڈرونز داغے ہیں ‘ صدر ٹرمپ کاکہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں بہت بڑی کامیابی مل رہی ہے ‘ ہرمزکی صورتحال بہتر ہوتے ہی تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں گی جبکہ دوسری جانب سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے مشیرمحسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہاہے کہ مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں اور ٹرمپ کو یہ ڈیڈ لاک توڑنا ہوگا‘اب گیند ٹرمپ کے کورٹ میں ہے ۔ انہوںنے یہ وارننگ بھی دی کہ اگر تنازع دوبارہ شروع ہوا تو جنگ پھیل کر بحر ہند، بحیرہ احمر، باب المندب اور بحیرہ روم تک پہنچ جائے گی۔ ادھرواشنگٹن نے شیڈو بینکنگ اور ایرانی ایل پی جی اسمگلنگ نیٹ ورک پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رفال گروسی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نےمطالبہ کیاہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ50فیصدمنجمد اثاثے فوری جاری کیے جائیں اورباقی ماندہ اثاثے بھی ایک یا دوماہ کے اندر ایران کے حوالے کئے جانے چاہئیں‘عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تاہم اگرکوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز دی ہے جبکہ ویانا میں تعینات ایران‘ چین اور روس کے مستقل نمائندوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رفال گراسی کے ساتھ ایک مشترکہ ملاقات کی ہے ‘ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے آغاز کے بعد سے اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے جبکہ چھ دیگر جہازوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے‘سینٹرل کمانڈنے امریکی جنگی جہازوں پرایران کے انتباہی حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہاہےکہ ایرانی افواج نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر کوئی حملہ یا فائرنگ نہیں کی ۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے ملک کے سپریم لیڈر کی ٹرمپ سے ملاقات کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔گزشتہ روز ایک انٹرویو میں عراقچی کا کہناتھاکہ یہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔میرے خیال میں ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور حقیقی دنیا میں سوچنا اور جینا چاہیے۔عراقچی نے بتایا کہ جن حملوں میں علی خامنہ ای شہیدہوئے ، اس وقت وہ لیڈر کے اسی دفتر کے اندر موجود تھے جہاں ان کا انتقال ہوا، لیکن وہ عمارت کے دوسرے حصے میں تھے اس لیے محفوظ رہے۔عراقچی نے یہ بھی کہا کہ نئے سپریم لیڈر ملکی امور میں مکمل طور پر قریبی اور مؤثر موجودگی رکھتے ہیں اور انہیں معاملات پر پورا کنٹرول حاصل ہے۔ ادھرامریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز ایک ایسے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو مبینہ طور پر عمان کا جھوٹا نام استعمال کر کے ایران سے جنوبی اور مشرقی ایشیا میں ایل پی جی برآمد کر رہا تھا۔محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق اس نیٹ ورک نے عرب امارات اور چین میں جعلی کمپنیوں اور بحری جہازوں کے ایک شیڈو فلیٹ (خفیہ بحری بیڑے) کا استعمال کیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ نظام جو موجودہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، کروڑوں ڈالرز مالیت کی ایل پی جی منتقل کر رہا تھا۔اس کے علاوہ واشنگٹن نے جمعہ کے روز ایک ایرانی کرنسی ایکسچینج ہاؤس اوراس سے وابستہ افراد پر بھی پابندیاں عائد کیں جن پر مبینہ طور پر اربوں ڈالرز کے مالیاتی لین دین میں ایران کی مدد کرنے کا الزام ہے۔

اہم خبریں سے مزید