تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) اپریل میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہےتاہم اسرائیل نے لبنان میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیرکوصورشہرمیں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے ‘ یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل فائر کئے ہیں ‘ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہونے کہا کہ اسرائیل فی الحال ایران پر حملے روک رہا ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حزب اللہ اور ایران سے لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی‘ تہران نے دوبارہ حملے کئے توبھرپورطاقت سے جواب دیا جائے گا‘ٹرمپ کو صاف بتا دیا ہمیں دفاع کا حق حاصل ہے ‘ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی۔ اسرائیلی وزہردفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ایرانی انتباہ کے باوجود لبنان میں فوجی مہم جاری رہے گی ‘دوسری جانب ایران کی اعلیٰ عسکری کمان کے ہیڈ کوارٹر نے بھی خبردار کیا کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے توایران پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن جواب دیگا‘ صدر مسعود پزشکیان کا کہناہے ایران نے میدان چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کی میز۔کسی بھی خطرے کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کریں گے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاہےکہ اسرائیلی اقدامات کا ذمہ دارامریکا ہے ‘ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بندنہیں ہوا ۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات باقر قالیباف کے مطابق واشنگٹن سفارتی حل تلاش نہیں کررہا‘وہ جنگ بندی کا خواہاں ہے اور نہ ہی مذاکرات کا‘ ہمیں فیصلہ کن جواب دینا چاہیے ‘امریکی محاصرے کو ناکام بنادیں گے۔ادھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک مختصر بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے نئے حملے امن معاہدے پر اثر انداز نہیں ہوں گے‘ دونوں ممالک فوری طور پر حملے روکیں ‘تمام فیصلے میں کرتا ہوں‘نتن یاہو فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ‘ان کے پاس ایران معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘چین نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ دوبارہ حملے شروع ہونا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔